اسلام آباد، پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی معاہدے کے تحت یکم جولائی کو معمول کے مطابق ایک دوسرے کے ملک میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرلیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے 250 بھارتی قیدیوں کی فہرست کی جبکہ بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو 439 پاکستانی یا پاکستانی سمجھے جانے والے قیدیوں کی فہرست فراہم کی۔
دفترخارجہ کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی قیدیوں میں 52 سویلین اور 198 ماہی گیرشامل ہیں، دوسری جانب بھارت کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق بھارتی جیلوں میں 386 سویلین پاکستانی یا پاکستانی سمجھے جانے والے افراد اور 53 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں۔
پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی پر بھارتی بیان کو من گھڑت قرار دیکر مسترد کردیا
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے 97 پاکستانی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں اور وطن واپسی کے منتظر ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان قیدیوں کی رہائی میں مزید تاخیرنہ کی جائے تاکہ وہ جلد اپنے اہل خانہ سے مل سکیں۔
دفتر خارجہ نے بھارتی حکام پرزوردیا کہ وہ تمام پاکستانی یا پاکستانی سمجھے جانے والے قیدیوں کو بلا تاخیر قونصلررسائی فراہم کریں، انکی سلامتی، صحت اورفلاح و بہبود کو یقینی بنائیں اوربین الاقوامی قوانین ودوطرفہ معاہدوں پرمکمل عملدرآمد کریں۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرون ملک قید تمام پاکستانی شہریوں کے حقوق کا تحفظ، قونصلرمعاونت کی فراہمی اوران کی جلد ازجلد باعزت وطن واپسی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
