ایران نے واضح کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہونگے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقرقالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان ایران، امریکا،لبنان میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔
باقرقالیباف نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرےگا۔

ایرانی اسپیکر باقرقالیباف نے کہاکہ ہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ باہمی مشاورت اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں، اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سےفائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ گئے لیکن ایرانی وفد سے ملاقات شیڈول نہیں۔

ترجمان قطری وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی ثالثوں سے ملاقات کریں گے جس میں مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت پر بات چیت ہوگی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی ایران وفد کے دوحہ جانے کی تصدیق کی لیکن امریکی حکام سے ملاقات کی تردید کی ہے۔
