دنیا بھر میں اوسط عمر میں گزشتہ دو صدیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم صحت مند زندگی کے سال اسی رفتار سے نہیں بڑھے، جو ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق صحت مند بڑھاپا صرف عمر بڑھنے کا نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رہنے کا معاملہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر شخص طویل اور صحت مند زندگی چاہتا ہے، لیکن عمر کے ساتھ آنے والی بیماریوں اور کمزوریوں سے بچنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی تناظر میں طویل عمر پانے والے خاندانوں پر کی جانے والی تحقیق نے اہم جینیاتی اشارے فراہم کیے ہیں۔
یورپی سوسائٹی آف ہیومن جینیٹکس کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، ایسے خاندان جہاں افراد غیر معمولی طور پر زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں، ان میں نایاب جینیاتی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں دیر تک صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جینیاتی عوامل دائمی بیماریوں کے آغاز کو مؤخر کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت مند زندگی کے سال، جنہیں “ہیلتھ اسپین” کہا جاتا ہے، دراصل وہ عرصہ ہوتا ہے جب انسان کسی بڑی بیماری یا ذہنی تنزلی کے بغیر زندگی گزارتا ہے۔
سائنس دانوں نے 212 ایسے خاندانوں کے جینز کا تجزیہ کیا جن میں لمبی عمر عام تھی۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ کچھ نایاب جینیاتی تبدیلیاں جسم کے خلیوں کی مرمت، سوزش کو کم کرنے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
خاص طور پر ایک جین OBFC1 میں پائی جانے والی تبدیلی کو نمایاں قرار دیا گیا، جو خلیوں کے ٹیلومیئرز کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ عمل خلیوں کو زیادہ عرصے تک مستحکم رکھتا ہے اور عمر بڑھنے کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صرف جینیات ہی نہیں بلکہ معاشی حالات، طرز زندگی، خوراک، رویے اور ماحول بھی عمر اور صحت پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد عام خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود طویل عمر پاتے ہیں، جبکہ کچھ طویل العمر خاندانوں کے افراد ایسا نہیں کر پاتے۔
ماہرین کے مطابق صحت مند بڑھاپا دراصل کئی چھوٹے مگر اہم عوامل کا مجموعہ ہے، جن میں ڈی این اے کی مرمت، سوزش پر قابو، خلیاتی استحکام اور میٹابولزم کا توازن شامل ہیں۔
