بھارت کو حالیہ عرصے میں سفارتی محاذ پر متعدد چیلنجز اور تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور انڈو پیسفک خطے میں بھارت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے خلاف امریکا کے ساتھ قریبی اتحاد سے متعلق بھارتی توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں اور واشنگٹن اپنی معاشی اور صنعتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
پاکستان نے سفارتی میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا،مودی سرکارکی ناکامی پر سوالات اٹھنے لگے
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ امریکا بھارت کو ایسے معاشی مواقع فراہم نہیں کرنا چاہتا جو مستقبل میں امریکی صنعت کے لیے مسابقت پیدا کریں۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں بھارت کے خود کو خطے کا “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” قرار دینے کے دعوؤں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، علاقائی کردار اور اسٹریٹجک حیثیت کے باعث عالمی منظرنامے میں اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
