بنوں کے علاقے برغنتو میں بم دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق بم سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا ، زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او یاسر آفریدی نے بتایا کہ دھماکے کی زد میں ایک مسافر وین اور ایک دوسری گاڑی آئی ہے، مسافر وین گاؤں ہاتھی خیل سے بنوں آ رہی تھی۔ وین میں سوار 5 افراد اور دوسری گاڑی میں سوار 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں دھماکا، قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق
دھماکے میں تحصیلدار سب ڈویژن وزیر عابد اللہ کی گاڑی بھی زد میں آئی، جسے نقصان پہنچا، تاہم وہ خود محفوظ رہے۔
کچے اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث متاثرین کو مقامی اسپتال منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اسی دوران اسی مقام پر دوسرا دھماکا بھی ہوا۔
دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض افراد کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کرکے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کے درجاتِ بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کی دعا کی۔
لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے بازار میں دھماکا ، 7 افراد شہید ، 18 زخمی
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے اور ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی اور ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کی امانت ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
دریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنوں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ درندہ صفت خارجی کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں، تاہم قوم اور ریاست مل کر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
