سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
عدالت نے میلسی میں تعینات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کیس میں اہم فیصلہ جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کی برطرفی بحال کر دی۔
خلع کے بعد دوسری شادی کیلئے خاتون کو سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں،سپریم کورٹ
ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی برطرفی کی سزا بحال کی جاتی ہے،عدالتی افسر کی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کردی گئیں،نو صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی تین رکنی بینچ کا حصہ تھے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ رشوت ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،خراب شہرت ثابت ہونے پر لازمی ریٹائرمنٹ نہیں بلکہ برطرفی ہی مناسب سزا ہے۔
ٹربیونل نے برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر کے قانون کی غلط تشریح کی،عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ہو جائے تو جج کو منصب پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالتی ادارہ صرف حقیقی دیانت نہیں بلکہ دیانت کے تاثر کا بھی تقاضا کرتا ہے،جج کا معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ ہر قسم کے شبہے سے بالاتر ہونا ہے،جج کی ساکھ متاثر ہو تو قانون پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
جج کی دیانت تقسیم نہیں ہو سکتی، وہ یا تو مکمل ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی،عدالتی ادارے کی ساکھ کے تحفظ کے لیے خراب شہرت رکھنے والے جج کی برطرفی ضروری ہے۔
خراب شہرت رکھنے والے جج کو ریٹائرمنٹ فوائد دے کر رخصت کرنا یہ تاثر دیتا ہے کہ دیانت قابلِ سودے بازی ہے،خراب شہرت رکھنے والے جج کو ہٹانا ایسے ہی ہے جیسے جسم سے ناسور نکال دیا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملازمین کے لیے بڑا ریلیف، یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ
عوام کا اعتماد عدلیہ کی اصل طاقت ہے، عدلیہ قوت سے نہیں بلکہ اعتماد سے قائم رہتی ہے،ضلعی عدلیہ کے جج کے خلاف فیصلوں کے بدلے رشوت لینے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے فوری کارروائی کے بجائے خصوصی نگرانی کا حکم دیا،سہ ماہی رپورٹس میں جج کی شہرت خراب قرار دی گئی،محکمانہ انکوائری میں بدعنوانی، بدانتظامی اور خراب شہرت کے الزامات کی تحقیقات کی گئیں۔
انکوائری میں رشوت لینے کا الزام ثابت نہ ہو سکا،انکوائری میں عدالتی افسر کی خراب شہرت اور مشتبہ دیانت ثابت قرار پائی،محکمانہ اتھارٹی نے عدالتی افسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
سروس ٹربیونل نے برطرفی کی سزا کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا،سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے برطرفی کی سزا بحال کر دی۔
