وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے 117.75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 112.68 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 4.5 فیصد زیادہ ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق اہم تعلیمی شعبوں میں فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سیکنڈری ایجوکیشن کے ترقیاتی حصے کیلئے رقم 14.42 ارب سے بڑھا کر 16.02 ارب روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پری اور پرائمری تعلیم کیلئے 5.22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال 4.83 ارب روپے تھے۔
اعلیٰ تعلیم کو سب سے زیادہ 84.46 ارب روپے دیے گئے ہیں، جو پچھلے سال 82.01 ارب روپے تھے۔ تاہم کچھ مدات میں معمولی اضافہ یا کمی بھی دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے محتاط مالی حکمت عملی اپنائی ہے۔
دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے مجموعی طور پر 112 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں ترقیاتی بجٹ 39.4 ارب سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ تاہم بار بار مطالبات کے باوجود ریکرنگ گرانٹ 66.4 ارب روپے پر برقرار رکھی گئی ہے۔
ایچ ای سی نے ریکرنگ گرانٹ کیلئے کم از کم 100 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی طلبہ تعداد، مہنگائی اور اخراجات کے باعث جامعات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق 2017-18 سے فنڈز میں اضافہ نہ ہونے سے تعلیمی نظام میں مالی خلا بڑھ رہا ہے۔
ترقیاتی بجٹ میں سے 46 ارب روپے 131 جاری منصوبوں جبکہ 2.2 ارب روپے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں، جن میں اسکلز، انوویشن اور اسپورٹس پروگرام شامل ہیں۔
ادھر وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کیلئے 36.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں بڑی رقم دانش اسکولز منصوبوں کیلئے مختص ہے۔ اس کے علاوہ نئے کالجز، اساتذہ کی تربیت، اسکالرشپس اور خصوصی تعلیم کے منصوبوں کیلئے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر تعلیم کا بجٹ معتدل اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں نئے بڑے منصوبوں کے بجائے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے پر توجہ دی گئی ہے۔
