ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں چلنے والی خبروں کو ایرانی حکومت نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
ایران کی انفارمیشن کونسل کے سربراہ الیاس حضرتی نے ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ صدر کے استعفے یا عہدہ چھوڑنے سے متعلق تمام دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔
انہوں نے ان خبروں کو پھیلانے والے ذرائع کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانیے کا مقصد ایران کے اندر سیاسی بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے تاہم ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایران امریکا ممکنہ معاہدہ، مسعود پزشکیان نے حتمی فیصلہ سپریم لیڈر کی منظوری سے مشروط قرار دے دیا
حکومتی ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق ادا کر رہے ہیں اور ریاستی امور کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں آئی۔
قبل ازیں بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صدر نے مبینہ طور پر استعفیٰ سپریم لیڈر کے دفتر کو ارسال کیا ہے اور حکومت کے اندر اختیارات سے متعلق اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
