واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے سے متعلق شرائط مزید سخت کر دیں۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے نئی اور نظرثانی شدہ تجاویز ایران کو ارسال کی گئی ہیں۔ جبکہ تہران ان تجاویز پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ فریم ورک میں کی گئی تبدیلیوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق شقوں پر سخت تحفظات رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کو دی جانے والی مالی رعایتوں پر سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور ایرانی قیادت کی جانب سے جواب میں تاخیر پر وہ ناراضی کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق نئی تجاویز کا مقصد ایران پر فوری فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ مجوزہ فریم ورک منظوری کے لیے ایرانی قیادت تک بھی پہنچایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سربیا کے صدر نے بھارتی ایس 400 نظام کی تباہی کی تصدیق کر دی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے اندرونی سطح پر مشاورت جاری ہے، تاہم قیادت تک رسائی اور منظوری کے عمل میں مشکلات کے باعث معاہدے پر پیشرفت میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
