کئی برسوں تک محمود بھٹی خود کو ایک ایسی کامیاب شخصیت کے طور پر پیش کرتے رہے جو ایک عام تارکِ وطن سے پیرس کی فیشن انڈسٹری کی نمایاں شخصیت بنے۔ ان کی کامیابی کی کہانی کو صلاحیت، محنت اور کاروباری ذہانت کا نتیجہ قرار دیا جاتا رہا۔ تاہم اب یہ تاثر ایک مجرمانہ سزا کے بعد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
معروف فرانسیسی اخبار ’لے موند‘ کے صحافی لورا موٹے اور کلیمنٹ گیلو کی رپورٹ کے مطابق محمود بھٹی نے پیرس کورٹ آف اپیل میں پیش ہوکر 2009 سے 2014 کے دوران ٹیکس فراڈ اور سنگین منی لانڈرنگ کے الزامات کا اعتراف کیا۔
عدالت نے انہیں دو سال قید کی معطل سزا، ڈیڑھ لاکھ یورو جرمانہ، دس سال تک کمپنیوں کے انتظام سے نااہلی اور لگژری اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا، جن میں تین جیگوار گاڑیاں اور مہنگی گھڑیاں شامل ہیں۔
تحقیقات کے دوران مالی لین دین کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک سامنے آیا، جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کے ذریعے چلایا جارہا تھا۔ حکام کے مطابق اس نظام کو شاہانہ طرزِ زندگی کیلئے استعمال کیا گیا، جو ان کی برسوں سے بنائی گئی عوامی شبیہ سے بالکل مختلف تھا۔
پاکستان میں محمود بھٹی کو طویل عرصے تک بیرونِ ملک کامیابی اور فلاحی سرگرمیوں کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ وہ سیاسی شخصیات، شوبز حلقوں اور کاروباری اشرافیہ میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، جبکہ انہیں سرکاری اعزازات اور عوامی پذیرائی بھی حاصل رہی۔
اب صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک طرف فرانسیسی حکام ان کے خلاف مالی فراڈ کا کیس تیار کررہے تھے، وہیں دوسری جانب پاکستان میں انہیں کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ان کی شہرت کا بڑا حصہ خود تشہیر اور ایک سوچے سمجھے انداز میں بنائی گئی شخصیت پر مبنی تھا، جبکہ ان کے دعوؤں کے حجم کے پیچھے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد بہت کم تھے۔
یہ معاملہ ایک تحقیقاتی ڈاکیومنٹری اور بعد ازاں “لے موند” کی رپورٹس کے بعد منظرِ عام پر آیا، جہاں لورا موٹے اور کلیمنٹ گیلو نے ان کے مالی معاملات، کاروباری سرگرمیوں اور ماضی کے قانونی تنازعات پر نئی توجہ مرکوز کی۔
جو کہانی کبھی ایک کامیاب تارکِ وطن کی متاثر کن مثال سمجھی جاتی تھی، اب اسے ایک ایسی مصنوعی شخصیت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو تشہیر، تعلقات اور مالی دھوکے پر قائم تھی۔
