امریکی آٹو انڈسٹری اور قانون سازوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران چینی گاڑیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی دینے سے گریز کریں۔
رائٹرز کے مطابق دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکینِ کانگریس اور صنعتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ چینی آٹو ساز کمپنیوں کو اجازت دینے سے امریکی مینوفیکچرنگ اور قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ چینی کمپنیاں حکومتی سرپرستی، کم قیمتوں اور جدید الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کے باعث مارکیٹ پر تیزی سے قبضہ جما سکتی ہیں۔
امریکی قانون سازوں نے ڈیٹا سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید گاڑیاں مسلسل معلومات اکٹھی کرتی ہیں، اس لیے چینی کمپنیوں کی شمولیت حساس معلومات کے رسک کو بڑھا سکتی ہے۔ اس حوالے سے نئی قانون سازی بھی زیر غور ہے جو چینی گاڑیوں پر پابندی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال آٹو سیکٹر کو چین کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم صنعت کو خدشہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں نرمی دکھائی جا سکتی ہے۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور میکسیکو میں چینی گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے امریکی صنعت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
