اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے برطانوی نمائندہ خصوصی کے پاک افغان سرحد سے متعلق ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی اور دراندازی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کے لیے برطانوی نمائندہ خصوصی کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ردعمل میں کہا کہ پاک افغان سرحد سے متعلق یکطرفہ ریمارکس زمینی حقائق سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت مارچ میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود سرحد پار سے جارحیت اور دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں جاری رہیں۔
ترجمان نے کہا کہ طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز ملک کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں اب تک 15 عام شہری شہید اور 84 زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: صنعتی ترقی کیلئے توانائی کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہے، وزیر اعظم
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی جانب سے دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائیں۔ اور شہری ہلاکتوں سے متعلق افغان دعوے قابل اعتبار نہیں۔ ایسے بیانات دہشت گردی کی اصل وجوہات کو نظرانداز کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
