کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پراسرار حالات میں انتقال کرنے والے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا کی قبر کشائی آج اس وقت تنازع کا شکار ہوگئی جب مرحوم کے اہلخانہ نے آخری وقت میں تبدیل کیے گئے میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
مرحوم کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے قبرستان پہنچ کر واضح مؤقف اختیار کیا کہ قبر کشائی کا عمل صرف اسی میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں ہونا چاہیے جو ابتدا میں اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، بعد ازاں قائم کیے گئے بورڈ کی موجودگی میں وہ اس کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
میر رضا علی کیس، قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا
جبران ناصر نے موقع پر موجود جوڈیشل مجسٹریٹ کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کرائی، جس میں استدعا کی گئی کہ عدالت کے حکم کے مطابق قبر کشائی پہلے سے مقرر کردہ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں کرائی جائے، نہ کہ نئے تشکیل دیے گئے بورڈ کے تحت۔
دوسری جانب قبر کشائی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ، میڈیکل بورڈ کے ارکان اور دیگر متعلقہ حکام قبرستان پہنچ چکے تھے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی اور کارروائی کے دوران غیر متعلقہ افراد کو قبرستان کے مخصوص حصے سے باہر جانے کی ہدایت کی گئی۔
یاد رہے کہ حکومت سندھ نے حال ہی میں آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا تاکہ میر رضا علی کی لاش کا دوبارہ طبی و فرانزک معائنہ کیا جا سکے۔ اس بورڈ کی سربراہی ڈاؤ میڈیکل کالج کے شعبۂ پیتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کو سونپی گئی ہے، جبکہ اس میں سندھ میڈیکل کالج، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) اور سی پی ایل سی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مرحوم کے والد نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے قبر کشائی اور دوبارہ فرانزک معائنے کی درخواست کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں متعدد اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث موت کی اصل وجوہات کا تعین ممکن نہیں ہوسکا۔
عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ نے درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے قبر کشائی اور نئے طبی معائنے کی اجازت دے دی۔
اس کیس نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کی جب کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خط میں ابتدائی پوسٹ مارٹم پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق معائنے کے دوران گن پاؤڈر ریزیڈیو کا تجزیہ نہیں کیا گیا، ایکسرے نہیں کیے گئے، سر اور گردن کا مکمل اندرونی معائنہ نہیں ہوا، فرانزک فوٹوگرافی ناقص رہی، ڈی این اے نمونے حاصل نہیں کیے گئے جبکہ گولی کے داخل اور خارج ہونے کے نشانات اور اس کی سمت سے متعلق ریکارڈ بھی غیر تسلی بخش تھا۔
تاہم تحقیقاتی ٹیم نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر سمعیہ سید نے خود پوسٹ مارٹم نہیں کیا تھا، جبکہ موت کی حتمی وجہ تمام قانونی اور فرانزک مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔ اس تمام صورتحال کے باعث میر رضا کی قبر کشائی کا عمل قانونی اور انتظامی تنازع کی نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔
