پاور ڈویژن اور آئی ایف سی کے درمیان ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے بجلی کے نظام کی جدیدیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت ملک بھر میں اسمارٹ میٹرنگ منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت تقریباً ایک کروڑ بجلی کنکشنز پر اسمارٹ میٹرز نصب کیے جائیں گے۔ اس منصوبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی توقع ہے جبکہ حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق بجلی کے ترسیلی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق اسمارٹ میٹرز کی تنصیب سے بجلی چوری کی روک تھام، بلنگ کے نظام میں شفافیت اور ریکوری میں نمایاں بہتری آئے گی۔ عالمی مسابقتی عمل کے ذریعے اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد کمی بھی ممکن بنائی گئی ہے۔
فیصلے کے مطابق نئے بجلی کنکشنز کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ روایتی میٹرز کے اجرا کو ختم کر کے جدید ڈیجیٹل نظام کی جانب عملی پیش رفت شروع ہو چکی ہے۔ تھری فیز صارفین کے تمام میٹرز کو مرحلہ وار اسمارٹ میٹرز میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین کو بھی اس ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا۔
مزید برآں، ناقص میٹرز کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر نیپرا کی منظوری کے بعد عملدرآمد میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
فیلڈمارشل کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر امریکی صدر سے رابطہ، رائٹرز کا دعویٰ
ماہرین کے مطابق پاور سیکٹر میں ان اصلاحات سے نہ صرف مالی استحکام حاصل ہوگا بلکہ مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ متوقع ہے، جبکہ حکومت نے عوام کو قابلِ اعتماد اور معیاری بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
