لیسکو بورڈ نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے ٹویٹ پر نوٹس لے کر اعلیٰ سطح انکوائری کا حکم دے دیا۔
لیسکو بورڈ نے کہا کہ وفاقی وزیر کی درخواست پر بھی 80 ہزار لے کر ٹرانسفارمر بدلنا افسوسناک ہے، یہ واقعہ کرپشن اور فرسودہ سسٹم کی بدترین مثال ہے۔
لیسکو بورڈ نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو لیسکو سمیت تمام ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ ہو گی، لیسکومینجمنٹ ملوث پائی گئی تو سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) May 30, 2026
بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کرپشن اور اوور بلنگ ختم کر دی گئی ہے۔
