آج سے ایک 114 سال قبل ٹائٹینک بحری جہاز 20ویں صدی کے آغاز کا ایک ایسا شاہکار تھا جسے اپنی ساخت، عیش و آرام اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باعث “ناقابلِ ڈوبنے والا جہاز” کہا جاتا تھا.
تاہم 15 اپریل 1912 کی رات یہ دعویٰ اس وقت غلط ثابت ہوا جب یہ جہاز اپنے پہلے ہی سفر کے دوران برفانی تودے (آئس برگ) سے ٹکرا کر بحرِ اوقیانوس میں ڈوب گیا۔
جاپان میں جل پری کی باقیات دریافت، ماہرین میں بحث چھڑ گئی
یہ عظیم جہاز برطانیہ کے شہر ساؤتھمپٹن سے امریکہ کے شہر نیویارک جا رہا تھا، جب حادثہ پیش آیا۔ جہاز میں موجود مسافروں کی مجموعی تعداد کے مطابق اس سانحے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چند سو افراد ہی زندہ بچ سکے۔

دنیا کا سب سے بڑا مسافر جہاز
ٹائٹینک اس دور کا سب سے بڑا اور سب سے پرتعیش مسافر جہاز تھا، جس کی لمبائی 882 فٹ اور وزن تقریباً 53 ہزار ٹن سے زائد تھا۔ اسے اس وقت انجینئرنگ کا ایک حیران کن شاہکار تصور کیا جاتا تھا۔
ناسا سائنسدان نے خلائی مخلوق کی موجودگی پر اہم بیان جاری کر دیا
وارننگز کے باوجود سفر جاری

حادثے سے قبل جہاز کو سمندر میں موجود برف کے بارے میں متعدد وارننگز موصول ہوئیں، لیکن کیپٹن ایڈورڈ سمتھ نے رفتار کم نہیں کی اور جہاز “فل اسپیڈ” پر سفر جاری رکھتا رہا۔
رات تقریباً 11:30 بجے ایک نگرانی کرنے والے اہلکار نے سامنے آئس برگ کو دیکھا اور فوراً خبردار کیا۔ جہاز کو موڑنے اور انجن ریورس کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث ٹکر سیدھی نہیں ہوئی بلکہ آئس برگ سے جزوی رگڑ ہوئی۔ تاہم اندرونی نقصان انتہائی شدید ہو چکا تھا۔
مریخ کا پانی کہاں گیا؟ نئی تحقیق نے حیران کن انکشاف کر دیا
ابتدائی طور پر جہاز کی اوپری سطح ٹھیک نظر آ رہی تھی، لیکن اندرونی طور پر یہ شدید طور پر تباہ ہو چکا تھا، جس کا اندازہ بعد میں ہی ہوا۔

حادثے کے بعد بچ جانے والی مشہور شخصیات

اس حادثے میں بچ جانے والوں میں خاموش فلموں کی اداکارہ ڈورتھی گبسن بھی شامل تھیں، جنہوں نے حادثے کے فوراً بعد ایک فلم “Saved from the Titanic” بنائی، جو اس واقعے پر بننے والی پہلی فلم قرار دی جاتی ہے اور مئی 1912 میں ریلیز ہوئی۔ تاہم اس فلم کا اصل پرنٹ بعد میں ایک آگ لگنے کے واقعے میں ضائع ہوگیا۔
موسیقاروں اور انجینئرز کی قربانی

ٹائٹینک کے آرکسٹرا سے تعلق رکھنے والے موسیقاروں نے ایک قابلِ ذکر مثال قائم کی۔ حادثے کے دوران وہ تقریباً دو گھنٹے تک موسیقی بجاتے رہے تاکہ مسافروں کو پرسکون رکھا جا سکے، حتیٰ کہ وہ سب جہاز کے ساتھ ڈوب گئے۔
اسی طرح انجینئرز نے بجلی اور امدادی سگنلز کو آخری وقت تک جاری رکھا اور اپنی جانیں قربان کر دیں۔
ایک خوش قسمت مگر بدقسمت خاتون

نرس وائلٹ جیسپ کو تاریخ کی ان چند شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے جو ٹائٹینک حادثے میں بچ نکلیں۔ حیران کن طور پر وہ بعد میں بھی ایک اور بحری جہاز کے حادثے میں زندہ بچ گئیں، جس نے انہیں غیر معمولی طور پر “دو مرتبہ زندہ بچ جانے والی شخصیت” بنا دیا۔
قبل از وقت پیشگوئی

ٹائٹینک کے حادثے سے 14 سال قبل امریکی مصنف مورگن رابرٹسن نے اپنے ناول “Futility” میں ایک ایسے ہی بڑے جہاز کے برفانی تودے سے ٹکرانے اور ڈوبنے کا ذکر کیا تھا۔ ناول اور حقیقی حادثے کے درمیان متعدد حیران کن مماثلتیں بھی سامنے آئیں، جنہوں نے اس کہانی کو مزید مشہور بنا دیا۔
لاشوں کی شناخت اور تحقیقات
حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے صرف تقریباً 300 کی لاشیں برآمد ہو سکیں۔ کئی دہائیوں بعد جدید سائنسی تحقیق اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے بعض گمنام لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہوئی، جن میں ایک 19 ماہ کے بچے کی شناخت بھی شامل ہے۔
جہاز کے دو حصوں میں تقسیم ہونے پر تاریخی تنازع

حادثے کے بعد کم از کم پندرہ عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ ٹائٹینک سمندر میں ڈوبنے سے پہلے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا، تاہم ابتدائی سرکاری تحقیقات نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جہاز مکمل حالت میں ہی ڈوبا۔
یہ اختلاف 73 سال تک بحث کا موضوع بنا رہا، تاہم 1985 میں ایک خفیہ نیوی مشن کے دوران اس کا ملبہ ملنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ جہاز واقعی دو حصوں میں ٹوٹ کر ڈوبا تھا۔

ٹائٹینک کی کہانی پر بننے والی تاریخی فلم

مزید یہ کہ جیمز کیمرون کی انیس سو ستانوے میں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم Titanic کا بجٹ بیس کروڑ ڈالرز تھا، جو کہ ٹائٹینک کی اصل لاگت سے بھی زیادہ بنتا ہے۔
