جاپان(japan) میں ایک صنعتی فیکٹری میں چاقو سے کیے گئے خوفناک حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہو گئے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق واقعہ اچانک پیش آیا جس کے باعث فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکا نے نائیجیریا میں فضائی حملہ کر دیا
ریسکیو اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے چاقو کے ساتھ ساتھ اسپرے نما مائع بھی استعمال کیا، جس سے کئی افراد کو سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن کی شکایات ہوئیں۔
حکام اسپرے کے مواد کی نوعیت جاننے کے لیے نمونے حاصل کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا وہ کوئی کیمیائی مادہ تھا یا عام مرچ اسپرے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جاپانی میڈیا کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا حملہ ذاتی رنجش کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔
افغانستان سے تاجکستان میں ایک اور حملہ، جوابی کارروائی میں 3 افغان ہلاک
ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ حملہ فیکٹری کے اندر کام کے اوقات کے دوران کیا گیا، جس کی وجہ سے زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہوئے۔ پولیس نے فیکٹری کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
جاپان میں اس نوعیت کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں، جس کے باعث اس حملے نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔
