قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔
حکمران اتحاد بل کی بآسانی منظوری کے لیے پر امید ہے کیونکہ انہیں ایوان میں دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل ہے۔
ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں جبکہ حکمران اتحاد کے پاس 237 اراکین کی حمایت موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے 126 اور پیپلز پارٹی کے 74 اراکین نے ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5 اور استحکام پاکستان پارٹی کے 4 اراکین بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔
مزید برآں، مسلم لیگ ضیاء، باپ پارٹی کے ایک ایک رکن اور 4 آزاد اراکین نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم حکمران اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز آئینی ترمیم کے بل کو ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا جہاں اس کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں پڑا۔

