چنیوٹ: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغان مسئلہ طاقت کے ذریعے حل نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سی پیک پر چین کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔
پنجاب کے شہر چنیوٹ میں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور ہم دو برادر اسلامی ملک ہیں۔ اور سرحد کے آر پار ایک ہی قوم بستی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے ہم چین کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ امریکہ اور مغرب کے دباؤ پر سی پیک روک دیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری شکایت عمران خان سے تھی اور وہی کام انہوں نے کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں افغانستان کا مسئلہ بگڑا۔ اور ہم ان کی لڑائیوں میں فریق بنے۔ ہم نے امریکیوں کو اڈے دیئے اور انہوں نے افغانوں پر بمباری کی۔ افغان عوام پرو انڈیا نہیں بلکہ پرو پاکستان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے مسئلہ حل ہونا نہیں سوچنا چاہیئے۔ اور ہمیں افغانستان کی آزادی و خودمختاری پر بھی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیئے۔ ہم کیوں پرو پاکستان افغان طبقے کو انڈیا کی گود میں پھینک رہے ہیں۔ ہماری طرف سے افغان وزراء کے دورے کیوں منسوخ کیے گئے۔ اور ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے تاکہ بڑی مشکل سے بچ سکیں۔
فلسطین اسرائیل جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی سے فلسطینیوں کے ہاتھ باندھے گئے۔ اور اسرائیل کو بمباری کرنے کی چھوٹ دی گئی۔ ہم کیوں ٹرمپ کو نوبل امن انعام دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پہلی بار امریکا کی پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل ہوئی۔ لیکن امریکا سے تعلقات کے لیے چین کی دوستی کی قربانی نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے ہم خطے میں تنہا ہو رہے ہیں۔ اور حکومت کسی بیرونی دباؤ کے تحت غلط اقدامات کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں عام آدمی اس وقت گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اور طاقت استعمال کرنی ہے تو افغانستان میں جا کر کریں۔ امام مساجد کے لیے 25 ہزار روپے مشاہرہ مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ماضی میں سیلز ٹیکس میں کیے گئے فراڈ پر اظہار برہمی، رپورٹ پیش کرنے کا حکم
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع انتظامی معاملہ ہے۔ اس پر بات نہیں کروں گا۔ جبکہ جماعتوں پر پابندیاں لگانے کے بجائے مذاکرات کیے جائیں۔
