روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کی نئی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کبھی بھی امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدرولادی میر پیوٹن Vladimir Putin کا کہنا تھا کہ امریکا کے غیر دوستانہ اقدامات روس اور امریکا کے تعلقات کو مزید کمزور کردیں گے، کوئی خوددار ملک دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرتا۔
ٹرمپ نے کینیڈا سے تمام تجارتی مذاکرات ختم کر دیے
پیوٹن نے تسلیم کیا کہ واشنگٹن کی نئی پابندیاں روسی معیشت پر کچھ اثر ڈال سکتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود خودمختاری سے فیصلے کرے گا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر روس کے صدر نے سخت موقف اختیار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد کریملن پر دباؤ ڈال کر یوکرین میں جاری جنگ ختم کرانا ہے۔
وینزویلا سے خوش نہیں ، جلد زمینی کارروائی کریں گے ، ٹرمپ کا اعلان
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، امریکی پابندیوں کے بعد چینی تیل کمپنیوں نے عارضی طور پر روسی تیل کی خریداری روک دی ہے جب کہ بھارتی ریفائنریاں جو روسی تیل کی سب سے بڑی خریدار ہیں وہ بھی اپنی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے والی ہیں۔
یورپی یونین کی نئی پابندیاں
یورپی یونین نے بھی گزشتہ روز روس کے خلاف 19واں پابندیوں کا پیکج منظور کیا، جس میں روسی مائع قدرتی گیس ایل این جی کی درآمد پر پابندی اور چینی ریفائنریز و وسطی ایشیائی بینکوں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
اگرچہ یورپی ممالک نے 2022 سے اب تک روس پر انحصار 90 فیصد کم کر دیا ہے، پھر بھی رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں انہوں نے 11 ارب یورو سے زائد روسی توانائی درآمد کی۔
زیلنسکی کا ردعمل
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان پابندیوں کو“انتہائی اہم”قرار دیا اور کہا کہ ماسکو پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ روس جنگ بندی کے لیے آمادہ ہو۔
نیٹو ممالک میں کشیدگی
روس کی آمدنی اور ردِعمل
روس کی تیل و گیس سے حاصل آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد کم ہے، مگر یہ اب بھی ماسکو کے بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتی ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ یہ یقیناً روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے لیکن کوئی بھی خوددار قوم دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرتی۔

ٹرمپ نے پیوٹن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پابندیوں کا اثر نہیں ہوگا تو ٹھیک ہے، چھ ماہ بعد ہم دیکھ لیں گے۔ دوسری جانب پیوٹن نے انتباہ کیا ہے کہ اگر روسی تیل کی فراہمی میں بڑی کمی آئی تو عالمی قیمتیں مزید بڑھیں گی جوامریکہ جیسے ممالک کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
