شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان کو سعودی عرب کا نیا مفتی اعظم (mufti azam)مقرر کردیا گیا ہے ۔خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی حکم نامہ جاری کردیا۔
شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کو وزیر کے عہدے کے ساتھ کبار علماء کی کونسل کا چیئرمین اور جنرل پریذیڈنسی برائے سائنسی تحقیق اور فتاویٰ کا جنرل چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے۔
زندگی پر ایک نظر
شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان 1354 ہجری (1936 عیسوی) میں القصیم کے شہر الشماسیہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔
بریدہ میں دینی درس کے حصول کے لیے بعض علماء جیسے شیخ عبداللہ بن حمید کے حلقے اور شیخ ابراہیم بن عبید کے حلقے میں بھی شرکت کی۔
نئے مفتی عام کے پاس ایک وسیع علمی ذخیرہ ہے۔ انہوں نے شریعت کے شعبے میں یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کی اور ایک علمی مقالے ’’ فنونِ میراث ‘‘ پر ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔
شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان نے ڈاکٹریٹ کا مقالہ کھانے پینے کی اشیاء کے موضوع پر لکھا ۔ انہوں نے اس مقالے میں دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ کون سی اشیا حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں۔
نئے مفتی اعظم نے تدریس کے شعبے میں کام کیا۔ دو سال تک ریاض کے سائنسی ادارے میں پڑھایا اور پھر کالج آف شریعہ، کالج آف اصول الدین سے گزرتے ہوئے ہائر انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد ادارے میں اپنے کام کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد وہ اسی ادارے میں دوبارہ تدریس پر واپس آگئے۔
مزید پڑھیں:سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ انتقال کر گئے
خانہ کعبہ کے امام شیخ صالح بن حُمید سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم مقرر
