سپریم کورٹ نے اختلافی فیصلہ میں شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا | urduhumnews.wpengine.com

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو اعلان کردہ اثاثوں میں زرعی زمین چھپانے کے مقدمہ میں دیے گئے اختلافی فیصلہ میں اہل قرار دے دیا۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ نے شیخ رشید کے خلاف دائر کی گئی درخواست خارج کر دی جس میں ان کے مخالف سیاستدان شکیل اعوان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو غلط بیانی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس فائز عیسی نے اختلافی نوٹ لکھا جب کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس سجاد علی شاہ نے درخواست کے اخراج کے حق میں فیصلہ دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ معاملے کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں عدالت نے کہا کہ شیخ رشید صادق اور امین ہیں وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

شیخ رشید کے خلاف دی گئی درخواست میں تین رکنی بینچ نے 20 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلہ کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی لمبی زندگی کی دعا مانگتے ہیں اگر وہ مر گئے تو بھلا سیاست کیسے کر سکیں گے۔

شیخ رشید نے عدالتی فیصلے کو متفقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رات کو اپنا فون بند رکھا کیونکہ لوگ فیصلہ حق میں آنے کی دعائیں کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاک فوج کے صدر دفاتر کے گیٹ نمبر چار کی پیداوار نہیں ہیں، مخالفت میں فیصلہ آنے کی صورت میں تقریر تیار کر رکھی تھی۔

شیخ رشید کے خلاف درخواست دینے والے ملک شکیل اعوان کا کہنا تھا کہ 18 ماہ تک میرا مقدمہ الیکشن ٹریبونل میں چلا، انصاف نہ پاکر میں سپریم کورٹ آیا جہاں تین برس تک کوششیں کرتا رہا، آج صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف پانے کے لیے کتنی تگ ودو کرنا پڑتی ہے۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے خود اپنے بیان حلفی میں تصدیق کی کہ انہوں نے زرعی زمین چھپائی، مکان کی ملکیت کم ظاہر کی جس کے باوجود یہ فیصلہ آیا ہے۔


متعلقہ خبریں