75 غیرقانونی قرضہ دینے والی ایپس کاایک لاکھ لوگوں سے 1 ارب روپے کا فراڈ


ہم انویسٹگیشن ٹیم کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہےکہ پاکستان میں 75 غیرقانونی قرضہ دینے والی ایپس نے ایک لاکھ لوگوں  کیساتھ ایک ارب روپے کا فراڈ کیا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ”ویوز میکرز ”میں زاہد گشکوری نے کہاہے کہ یہ ایپس پاکستان میں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں نہ ہی کسی نجی بینک کے ساتھ کوئی تعلق ہے ۔

تحقیق کے مطابق 7 لاکھ صارفین نے ایک سال میں ان غیرقانونی ایپس کو1 کروڑ 20 لاکھ بارڈاون لوڈ کیا، ایف ائی اے سائبرکرائم کو پچھلے ایک سال میں 25212 بینکنگ اور قرضہ ایپس فراڈ کی شکایات موصول ہوئی۔

ہم نیوز انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات کے مطابق غیرقانونی آن لائن قرضہ اپلیکیشنز نے دوسال میں پانچ لاکھ صارفین کے ساتھ 6 ارب کا کاروبار کیا۔

پی ٹی اے اور ایس ای سی پی حکام نے ہم نیوز کوان فراڈ ایپس کی تصدیق کی ہے، پی ٹی اے حکام نے کہا کہ ان فراڈ ایپس کو بند کرنے کیلیے گوگل اور دوسرے متعلقہ سماجی رابطے کی کمپنیوں کو لکھا گیا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق  ایف ائے اے کو سائبر کرائم سے متعلقہ ایک سال میں 151234 شکایات موصول ہوئی، بینکنگ فراڈ سے متعلق 557 کیس درج کیے گئے، 211 آن لائن بینکنگ اور قرضہ ایپس فراڈیوں کو پچھلے ایک سال میں گرفتارکیا گیا۔

71 ملزمان کو سزا ہوچکی ہے جبکہ ایس ای سی پی اور ایف اے ائی کا ایپس چلانے والے کیخلاف کریک ڈاون جاری ہے۔

دس رجسٹرڈ قرضہ دینے والی ایپس نے 52 لاکھ صارفین کے ساتھ کاروبار کیا، پچھلے دوسال میں ان دس قانونی طورکام کرنے والی ایپس نے ایک ارب سے زائد کے صارفین کوقرضے دیے.

آن لائن مائیکرو کریڈٹ رجسٹرڈ ایپس

 

سنیئر تجزیہ کار زاہد گشکوری نے مزید کہا ہے کہ 4 ممبرز پارلیمنٹ بھی بیکنگ فراڈ کا نشانہ بنے ہیں ۔


متعلقہ خبریں