سفارتکاری کے ذریعے معاملات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، سہیل شاہین


طالبان رہنما سہیل شاہین نے کہا ہے کہ خطےاور بالخصوص پڑوسیوں کیساتھ امن کیلئے ہم نے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ وِد مالک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے20 سال امریکا اور نیٹو کیخلاف جہاد کیا، سفارتکاری کے ذریعے معاملات کےحل پر یقین رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغان عوام کے جائز حقوق چھین لیے ہیں، سہیل شاہین

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان میں کوئی گروپنگ نہیں، افغان سرزمین کوکسی کیخلاف استعمال نہیں ہونےدیں گے۔

پروگرام میں موجود دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر ر محمود شاہ نے کہا کہ ہمارے قانون میں یہ ہے کہ ان تنظیموں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی، آئین پاکستان میں واضح ہے کہ کوئی ملک کے ساتھ دشمنی کرے اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے اس کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ آپ بھارت، ایران یا افغانستان سے بات کر سکتے ہیں لیکن ایسا گروپ جس نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھایا ان سے بات نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ اگر پاکستان آئیں گے تو یہاں کے لوگ انہیں نہیں چھوڑیں گے، پشاور سکول پر حملہ انہوں نے کیا کہ بچوں کے والدین انہیں چھوڑ دیں گے؟ کیا وزیرستان کے وہ لوگ جن کے سرداروں کو انہوں نے قتل کیا کیا وہ انہیں معاف کریں گے؟


متعلقہ خبریں