میرا 6 فٹ 2 انچ قدہے، آپ کو کیوں نظر نہیں آیا، احسن اقبال کا ڈپٹی اسپیکر سے سوال


قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے نظر انداز کرنے پر کہا ہے کہ میرا 6 فٹ سے زائد قد ہے، میں آپ کو نظرکیوں نہیں آیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمیںن بلاول بھٹو زرداری کو پہلے مائیک دینے پر احسن اقبال نے اعتراض کرتے ہوئے کہا میں مائیک کیلئے سے درخواست کر رہا تھا، میرا چھ فٹ دو انچ قد ہے، ایسا بھی نہیں کہ دکھائی نہ دوں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ  اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کو نظرانداز نہ کریں، ہماری طرف کرم کی نظر ہمارا حق ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ سندھ ٹرین حادثے کی جگہ پر دکھائی نہیں دیے، فردوس عاشق

ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومتی وزیر کہہ رہے ہیں کہ ٹرین حادثہ پہلی حکومتوں کی غلطی ہے۔ تین سال بعد بھی وزرا ہمیں الزام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت  تین سال کے دوران ن  سے، ش اور ش سے، ن نکالنے میں لگی رہی۔ اگر یہ توجہ ریلوے پر دی جاتی تو اتنے بڑے سانحات نہ ہوتے۔ دیکھتے ہیں اب وزیر مستعفی ہوتے ہیں یا وزیراعظم۔

قومی اسمبلی  میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے اسمبلی کا تمام ایجنڈا منسوخ کرنے ریلوے حادثے پر بحث کرانے کا مطالبہ کردیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ریلوے پر صرف سندھ  نہیں پورا پاکستان سفر کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن اسعد محمود نے کہا کہ ٹرین حادثے میں ابھی تک لاشوں اور زخمیوں کو نکالا جا رہا ہے، ابھی تک حادثہ میں کتنے شہید اور زخمی ہوئے، نہیں بتایا گیا۔

اسعد محمود نے کہا کہ گزشتہ حادثات کا ذمہ دارمسافروں کو بتایا گیا۔ اس حادثہ پرتحقیقات کی رپورٹ ابھی نہیں آئی اورذمہ دارسابق حکومت کو قرار دیا گیا۔  گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے اگر ریلوے میں نقائص تھے تو آپ نے کیوں ٹھیک نہیں کیا؟۔

انہوں نے کہا کہ اس سب کی ذمہ دار موجودہ حکومت اور اس کے وزرا ہیں۔ اس واقعہ پرمکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ گزشتہ ریلوے حادثات کی رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی جائیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا کی کل بحریہ ٹاوَن کراچی میں کروڑوں روپے کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سندھ پولیس ایک کلومیٹردور کھڑی تھی۔

وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ بحریہ ٹاوَن میں ہنگامہ آرائی ہورہی تھی اور سندھ حکومت کہاں تھی؟ بحریہ ٹاوَن میں پیش آنے والے واقعہ کی ذمہ داری آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کی ہے۔


متعلقہ خبریں