اخبار فروش کس طرح گزر بسر کر رہے ہیں


ساہیوال(رپورٹر راشد حسین): لاری اڈوں، چوراہوں اور شہر بھر میں اخبارات فروخت کر کے روزنہ ہزاروں افراد اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔

کورونا کے باعث بڑے بڑے کاروبار شدید معاشی بحران کا شکار ہوئے اور اخبار فروش بھی تنگدستی کا شکار ہیں۔

ساہیوال کا غلام سرور پچاس سال سے اخبارات بیچ کر زندگی کا پہیہ چلا رہا ہے۔ لاری اڈے سے اخبارات اٹھانا اور پھر تمام شہر اور گردو نواح میں انہیں فروخت کرنا اس کا ذریعہ معاش ہے۔

کئی دہائیوں سے اخبار فروشی کا کام کرنیوالے غلام سرور مشکل ترین حالات میں اپنی گزر بسر کررہے ہیں۔

ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا سے پہلے گھر کا چولہا بمشکل چل رہا تھا اب تو تین وقت کی روٹی بھی پوری کرنا محال ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 1970سے یہ کام کر رہے ہیں۔ حالات کورونا کی وجہ سے بہت ڈسٹرب ہو چکے ہیں۔ پہلے کام ٹھیک تھا اب کورونا کی وجہ سے کام بہت کم رہ گیا ہے۔ اپنا اور بچوں کا بہت مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔ بس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں بہت مشکل سے۔

اخبار فروشوں کی فلاح کے لئے آج تک حکومت یا کسی دیگر ادارے نے کوئی بھی اقدامات نہیں کیے۔ میں پچاس سال سے اخبار فروشی کاکام کررہا ہوں اس میں اتنی کمائی نہیں کہ بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکیں یا انہیں کوئی کاروبار کروا سکیں۔

آج تک کسی بھی ادارے یا حکومت نے ہمیں سپورٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انکم اتنی کم ہے کہ بمشکل گھر کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں