میانی صاحب قبرستان اراضی کیس، مالکان کی انٹرا کورٹ اپیل


لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے باغ گل بیگم کے مکینوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

جمرات کو میانی صاحب قبرستان اراضی کیس میں پراپرٹی مالکان نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اپیل کی سماعت کرے گا۔

اراضی کیس میں درخواست ایڈوکیٹ شاہد مقبول شیخ اور مقبول حسین شیخ کی وساطت سے دائر کی گئی۔ اپیل کندگان میں دربار پیر عبدالغفار شاہ کے گدی نشین سید طاہر محمود سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

اپیل کنندگان کا موقف ہے کہ عدالت عالیہ کے جسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل سنگل بینچ نے اراضی کیس میں موقف سنے بغیر یک طرفہ فیصلہ سنایا ہے۔ سنگل بینچ نے فیصلہ حقائق نظر انداز کرتے ہوئے کیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ  متنازعہ اراضی کا فیصلہ 1973 میں سپریم کورٹ کر چکی ہے۔

شاہد مقبول شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ اپیل کنندگان کی اراضی قبرستان کمیٹی نے 1962 میں  حاصل کی اور بعد ازاں اسی پر قبضہ کر لیا گیا۔

اپیل کندگان کا کہنا ہے کہ 1934 کے بعد سے مالکان سے اپنی ہی چھت تلے رہنے اور جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ سنگل بینچ نے اپنے کمیشن کی رپورٹ پڑھے بغیر فیصلہ کیا ہے لہذا فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

باغ گل بیگم کے گهروں کے حقیقی مالکان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک اپیل کنندگان کو بے دخل کرنے سے روکا جائے۔

میانی صاحب قبرستان کا شمار پاکستان کے وسیع وعریض قبرستانوں میں ہوتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد  قبرستان کے چاروں اطراف دکانیں، پلازے اور گھر تعمیر کرلئے گئے۔ گزشتہ برس لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ قبرستان کی ساڑھے تین کنال اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں