فواد چوہدری مشرف کی واپسی کے حامی

فوٹو: فائل


اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پاکستان واپسی کی حمایت کردی۔

ہم نیوز کے مارننگ شو ’ صبح سے آگے‘ میں مشرف کے دور حکومت کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ دور بہت اچھا تھا، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں لیکن ان پر سیاسی کیسز بنائے گئے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ججوں کو ذاتی معاملات پس پشت ڈال دینے چاہئیں۔

فواد چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان، پرویز مشرف سے خوش نہیں لیکن  سابق صدر عمران خان  کی بہت تعریف کرتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے اور اب ہم اہم معاملات میں فریق ہیں ۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ سعودی شہزادے محمد بن  سلمان بن عبد العزیز کے دورے کے دوران گوادر میں دس بلین ڈالرز کی آئل ریفائنری کے علاوہ بھی اربوں ڈالرز کے معاہدے ہوں گے، سعودی عرب ہمارا اکنامک پارٹنر اور پاکستان ان کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔

’عمران خان کی حکومت کومشرف ٹو حکومت سمجھنا چاہیے‘

دوسری جانب فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن پرویزرشید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کےخلاف آئین کے تحت مقدمہ بنا، عمران خان کی حکومت کومشرف ٹو حکومت سمجھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت کے وزرا مشرف کے لاڈلے رہے، خود عمران خان بھی پرویز مشرف کےلاڈلے رہے۔

رہنما مسلم لیگ ن کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت میں پرویزمشرف کی روح موجودہے۔

مشرف کو پاکستان واپس آجانا چاہیے، خواجہ اظہارالحسن

ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن نے کہا ہے کہ فواد چوہدری کے بیان کو ذاتی رائے نہیں سمجھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ غلطیوں پرسیاسی انتقام نہیں لینا چاہیے، پرویزمشرف کے دور میں کراچی نے بہت ترقی کی، ان کو پاکستان واپس آجانا چاہیے۔

خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ مقدمات کافیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے، پرویزمشرف کواپنےخلاف مقدمات کےدفاع کا اختیار ہونا چاہیے۔


متعلقہ خبریں