نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے اضافہ کردیا۔
نیپرا کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق صارفین کو نومبر کے بلوں میں فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔
6 نومبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اضافہ واپڈا کی سابق تقسیم کار کمپنیوں (ایکس واپڈا ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی یکساں فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
نیپرا نے ستمبر کے لیے بجلی کی اصل فیول لاگت 9 روپے 82 پیسے فی یونٹ مقرر کی تھی جبکہ ٹیرف میں پہلے سے شامل حوالہ جاتی فیول لاگت 7 روپے 45 پیسے فی یونٹ تھی۔
ان دونوں کے درمیان فرق کی بنیاد پر فی یونٹ2 روپے 36 پیسے کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔
یہ اضافہ بجلی کے نرخ مقرر کرتے وقت تخمینہ شدہ ایندھن کی لاگت اور ستمبر کے دوران بجلی پیدا کرنے اور خریدنے پر آنے والی اصل لاگت کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) نے ابتدائی طور پر فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے اضافے کی درخواست کی تھی۔ تاہم نیپرا نے بجلی پیدا کرنے کے اخراجات اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کا جائزہ لینے کے بعد اضافے کی رقم کم کرکے 2 روپے 36 پیسے فی یونٹ مقرر کردی۔
ستمبر کے دوران بجلی پیدا کرنے کے مختلف ذرائع کے استعمال نے بھی مجموعی فیول لاگت کو متاثر کیا۔
نیپرا کی جانب سے شائع کردہ سی پی پی اے-جی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس ماہ تقریباً 13.22 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جس میں پن بجلی کا حصہ تقریباً 36.6 فیصد اور جوہری توانائی کا حصہ 14.3 فیصد رہا۔
تاہم بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نسبتاً مہنگے ذرائع پر بھی زیادہ انحصار کرنا پڑا۔
درآمدی کوئلے سے تقریباً 16.3 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت تقریباً 17.23 روپے رہی جبکہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 39.74 روپے فی یونٹ تھی۔
فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 44.86 روپے فی یونٹ رہی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل سب سے مہنگا بڑا ذریعہ ثابت ہوا، جس سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت تقریباً 62.14 روپے رہی۔
اس کے برعکس جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 2.90 روپے اور مقامی کوئلے سے 5.99 روپے فی یونٹ رہی۔
واضح رہے کہ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کا مقصد بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن کی اصل لاگت میں ہونے والی تبدیلیوں کا بوجھ صارفین کو منتقل کرنا ہے، بجائے اس کے کہ ان اخراجات کو مستقل طور پر بنیادی بجلی کے نرخوں میں شامل کردیا جائے۔
نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ اضافی رقم بجلی کے بلوں میں الگ سے ظاہر کی جائے۔
اتھارٹی کے مطابق اگر کسی صارف کا نومبر کا بل نوٹیفکیشن کے مؤثر ہونے سے پہلے جاری ہو چکا ہو تو اضافی رقم اگلے ماہ کے بل میں وصول کی جا سکتی ہے۔
نیپرا نے ایکس واپڈا ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو اس ایڈجسٹمنٹ پر عمل درآمد کے دوران متعلقہ عدالتی احکامات کی پابندی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
