بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت خراب ہونے کا دعویٰ سامنے آگیا، ان کے بیٹے ولی خان نے والدہ کو فوری طور پر ذاتی معالج سے معائنہ کرانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ولی خان نے سوشل میڈیا پر اپنی خالہ روبینہ خان کا بیان شیئر کیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل کے اندر سے غیر سرکاری ذرائع کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور انہیں طبی علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔
روبینہ خان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کا بلڈ پریشر ماضی میں ہمیشہ کم سے معمول کی سطح پر رہا ہے جبکہ خاندان کو جیل حکام کی جانب سے ان کی طبیعت کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے دل کے والو کی تبدیلی کا آپریشن ہوچکا ہے، اس لیے ان کی صحت کی صورتحال تشویشناک ہے اور انہیں فوری طور پر ماہر امراض قلب سے معائنہ کرانے کی ضرورت ہے۔
ولی خان نے اپنی والدہ کی صحت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دل کا والو تبدیل ہوچکا ہے اور بلڈ پریشر بڑھنے کے باوجود انہیں علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔ حکام فوری طور پر انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کی اجازت دیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کی صحت سے متعلق یہ تشویش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل عمران خان کی 70 سالہ بہن نورین نیاز ی کو دل کی تکلیف کی شکایت پر کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔
Critical & urgent!! My aunt Rubina Khan’s statement about my mother, @DrUzma_KhanPK, held in Kot Lakhpat jail:
“I have received information from inside Kot Lakhpat jail, through informal sources, that my sister Uzma Khan’s blood pressure is also shooting up and she is not receiving any medical treatment. This is not natural. Like her other siblings, her blood pressure has always been genetically low to normal. The family has received no information from jail authorities. She had a heart valve replacement and her condition is vulnerable. She should be seen urgently by a cardiologist.” – Rubina Khan
This is very serious. My mother has a replaced heart valve and her blood pressure is rising with no treatment. The authorities must let her see her own doctor immediately.
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87— Wali Khan (@oxwali) November 6, 2026
نورین نیازی کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق انہیں دل میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی معائنہ اور ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نورین نیاز ی کی اسپتال منتقلی کے بارے میں اہل خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان اس وقت نورین نیاز ی اور علیمہ خان کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کردی ہے۔
تینوں بہنوں کی نظر بندی کے احکامات کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر کے توسط سے دائر درخواست میں نظر بندی کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔



