چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مولانا فضل الرحمان سے لڑتے رہیں گے تو معاشی ترقی کب کریں گے۔
لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے جدید اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بہت مثبت رہی، وفاق، خیبرپختونخوا اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطے بہتر بنانے پر اتفاق ہوا ہے، عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائیں گے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ درست نہیں جبکہ انہوں نے حال ہی میں بارہا وفاق پر الزام لگایا ہے کہ مذاکرات میں پیش کی جانے والی تجاویز پر پی ٹی آئی رضا مند تھی لیکن حکومت آخری وقت میں مکر گئی اور صوبے میں گورنر راج لگادیا گیا۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کاپ میٹنگ کے بعد وزیراعظم کراچی آئیں گے تو ان سے ملاقات ہوگی، وفاق سے کوآرڈی نیشن بہتر بنانے کے لیے کراچی میں بھی میٹنگ ہوگی۔ صوبائی حکومت اپنے فنڈز سے منصوبوں کی تکمیل یقینی بنا رہی ہے، صحت کے شعبے کی ذمہ داری ہم دوسرے صوبوں سے بہتر انداز میں نبھا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق کو تجویز دی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی جائے، ہماری توجہ اختلافات پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ عوام کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سب کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننا چاہیے۔
’لاڑکانہ کو جدید اسپتال کا تحفہ دیں گے‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کافی عرصے بعد لاڑکانہ آنے کا موقع ملا ہے، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا ہے۔ نئے اسپتال کی تعمیر کا منصوبہ مقررہ وقت سے ایک ماہ پہلے چل رہا ہے، جس پر متعلقہ ٹیم اور سندھ حکومت مبارکباد کی مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پہلی مرتبہ لاڑکانہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوا تو چاندکا میڈیکل اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے سے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ اسپتال کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چاندکا اسپتال 1970 میں قائم ہوا تھا، اس وقت کی آبادی اور موجودہ آبادی میں بہت فرق ہے، جبکہ سندھ کے دیگر علاقوں اور بلوچستان کے عوام بھی علاج کے لیے لاڑکانہ آتے ہیں۔ اس لیے پرانے اسپتال کے لیے مزید مریضوں کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسی صورتحال کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ لاڑکانہ کو ایک نیا جدید اسپتال کا تحفہ دیا جائے۔ امید ہے کہ 600 بستروں پر مشتمل یہ اسپتال لاڑکانہ سمیت دیگر علاقوں کے عوام کی طبی ضروریات پوری کرے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے کہ عوام کو عالمی معیار کا علاج مفت فراہم کیا جائے اور کوئی بھی پاکستانی شہری وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے باعث عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے حالات میں صحت کے شعبے میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مہنگے نجی اسپتالوں میں علاج کا خرچ برداشت کرنا عام آدمی کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ میں ایس آئی یو ٹی کی سہولت بھی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ لاڑکانہ اور گردونواح کے عوام کو مفت علاج میسر آسکے۔
تعلیم کے شعبے سے متعلق انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ یونیورسٹی کا افتتاح کرکے خوشی ہوئی ہے۔ سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جامعات کو تقریباً 45 ارب روپے فراہم کر رہی ہے جبکہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے تقریباً 65 ارب روپے کی گرانٹ دیتا ہے۔ تاہم جامعات کو درپیش مسائل حل کرنے کے ساتھ ان کی مالی خودمختاری اور آمدن بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ عوام کو کم قیمت پر معیاری تعلیم مل سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام پرانی آبادی اور ضروریات کے مطابق ہے، جس میں اضافے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ شہر میں باقاعدہ واٹر سپلائی کا نظام متعارف کرانے، گھروں تک صاف پانی پہنچانے اور سیوریج نظام کی استعداد بڑھانے کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے الگ ڈرینیج نظام بھی ضروری ہے تاکہ بارشوں اور سیلابی صورتحال میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ رتوڈیرو کے واٹر سپلائی منصوبے کو بحال کیا گیا ہے تاہم اس کی استعداد موجودہ آبادی کے مطابق بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قمبر شہدادکوٹ میں واٹر سپلائی اور سیوریج کے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل آئندہ ایک سے دو سال میں متوقع ہے۔
نئے اسپتال کے منصوبے کی لاگت سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت منصوبے کی لاگت تقریباً 9.2 ارب روپے بتائی گئی ہے، تاہم مہنگائی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لاگت بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی معاونت شامل نہیں، سندھ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاڑکانہ کے عوام کے لیے جدید اسپتال، یونیورسٹی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ کوشش ہے کہ عوام کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔



