الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے علاوہ صوبے کے باقی علاقوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔
الیکشن کمیشن نے 10 روز قبل خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 12 قبائلی اضلاع کے علاوہ دیگر اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔
صوبے میں پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی 4 سالہ مدت رواں سال مارچ جبکہ دوسرے مرحلے کے اداروں کی مدت جون میں ختم ہو گئی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی حکومت کے 4 نومبر کے آرڈر نمبر 3 کا الیکشن کمیشن کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا، جس میں صوبے میں بلدیاتی الیکشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق تمام اقدامات تا حکم ثانی معطل کر دیئے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرڈر کے تحت آئین کے آرٹیکل 140 اے کو معطل کیا گیا ہے، 140 اے مقامی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے، خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ رواں برس مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد سے تاخیر کا شکار ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے باعث حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا۔ کمیشن نے جولائی میں بھی واضح کیا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم قانونی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے انتخابی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
اکتوبر میں معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا، جب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا۔ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورت حال، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور انتظامی مسائل کو جواز بناتے ہوئے 12 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں پولنگ کے لیے اگلے سال 7 فروری کی تاریخ ہو گی۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی جس میں وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل کمیشن پیش ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران الیکشن کرانے کا کہا تھا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے وضاحت پیش کی کہ ہماری بلدیاتی الیکشن کی تیاری مکمل ہے، انتخابات کیلئے 20 جنوری کے بعد کی تاریخ دی جائے کیونکہ ہمیں الیکشن تیاری کے لیے 2 ماہ چاہئیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ پنجاب اور لاہور میں دسمبر میں بہت دھند ہوتی ہے، 20 جنوری کے بعد موسم کھل جاتا ہے، اسٹاف کے لیے انتظامات کے حوالے سے دسمبر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ممبر نے کہا کہ آپ تو اپریل کا الیکشن کہہ رہے تھے جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ ہم نے دوبارہ سوچا کہ جنوری اور فروری میں انتخابات پر ہمیں اعتراض نہیں، اپریل میں ہمیں الیکشن سوٹ کرتا تھا کیونکہ اپریل میں اسکول کی چھٹیاں ہوتی ہیں، سردی میں دن بھی بہت چھوٹا اور ووٹر نہیں نکلتا، اپریل میں روشنی کا پورا دن ملتا ہے۔
چیف سیکرٹری کی وضاحت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا کہ بسنت تو ویسے آپ منا رہے ہیں لیکن ہم 20 جنوری کی درخواست پر غور کریں گے اور اس کے بعد ہی الیکشن تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔
حکومت پنجاب نے رواں برس اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ صوبے میں ماہ ستمبر میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے۔ جولائی میں حکومت پنجاب نے الیکشن کمیشن سے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔
بعدازاں اکتوبر میں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کیا جس کے مطابق انتخابات کے لیے پولنگ 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم حکومت پنجاب کی جانب سے ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کی گئی۔



