کینیا کی عدالت نے مذہبی فرقے کے سربراہ پال نتھینج میکنزی کو 190 بچوں سمیت متعدد افراد کے قتل کے جرم میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی۔
مجرم پر الزام تھا کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو قیامت سے پہلے جنت پہنچنے کے نام پر خود اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ 6 نومبر کو ممباسا کی عدالت میں جج ڈیانا کاویدزا موچاچے نے فیصلہ سناتے ہوئے پال میکنزی کو بھوک سے قتل کرنے کے الزامات پر 100 سال جبکہ براہ راست قتل کے الزامات پر مزید 100 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بھوکا رکھ کر قتل کرنے کے ایک بالغ اور 182 بچوں کے قتل کے مقدمات میں مجرم کو 100،100 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، جو بیک وقت چلیں گی۔ جبکہ بچوں کے براہ راست قتل کے آٹھ مقدمات میں بھی 100،100 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ دونوں مجموعوں کی سزائیں الگ الگ اور یکے بعد دیگرے چلنے کے باعث مجموعی سزا 200 سال قید قرار پائی۔
استغاثہ کے مطابق پال میکنزی مشرقی کینیا کے ساحلی علاقے کے قریب ایک جنگل میں قیامت کے منتظر مسیحی فرقے کی قیادت کرتا تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو یقین دلایا تھا کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے بھوکا رہنے اور اپنے بچوں کو بھی بھوکا رکھنے سے وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
مقدمے میں بتایا گیا کہ میکنزی کے ساتھیوں نے اس کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متاثرین کو دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
بعد ازاں جنگل میں مختلف مقامات پر کمزور اور لاغر لاشیں قبروں اور گڑھوں سے برآمد ہوئیں جبکہ بعض افراد کو زندہ دفن کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے۔
عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے جج ڈیانا کاویدزا نے کہا کہ زندہ بچ جانے والے افراد نے گواہی دی کہ شاکاہولا جنگل میں ہونے والی اموات کو حضرت عیسیٰ سے شادی کی تقریبات کے طور پر منایا جاتا تھا اور مرنے والوں کو عقیدے کے ہیرو سمجھا جاتا تھا۔
جج کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جو موت کو نجات اور جنت تک پہنچنے کا راستہ سمجھتے ہوں، ان کے لیے سزائے موت سزا کے بجائے کامیابی یا شہادت تصور ہوسکتی ہے، اس لیے اس معاملے میں سزائے موت مؤثر روک تھام کا ذریعہ نہیں بنتی۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ شاکاہولا جنگل سے بچائے گئے تمام متاثرین، بشمول اب 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے افراد، کو مناسب تحفظ، نفسیاتی معاونت، تعلیمی سہولیات اور معاشرے میں دوبارہ آبادکاری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
جج ڈیانا کاویدزا نے فیصلے میں مذہبی گروہوں کی نگرانی، کمزور افراد کے تحفظ، مالی شفافیت اور مذہب کے نام پر استحصال روکنے کے لیے موجودہ نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی تنظیموں کے لیے ایسا قانونی اور انتظامی فریم ورک ہونا چاہیے جو جواب دہی اور نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔
قتل عام کی تفصیلات
مقدمے میں 190 بچوں اور ایک بالغ شخص کے قتل کے واقعات شامل تھے، تاہم کینیا کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق شاکاہولا جنگل سے مجموعی طور پر 448 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
پال میکنزی پر ایک دوسرے مقام پر واقع گاؤں میں مزید 52 افراد کی ہلاکت کا حکم دینے کا بھی الزام ہے، اس طرح مجموعی طور پر مشتبہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 500 بنتی ہے تاہم دوسرے مقدمے میں میکنزی نے صحت جرم سے انکار کر رکھا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پال میکنزی 2017 سے حکام کی نظروں میں تھا، جب پولیس نے اس کے ٹھکانوں کی تلاشی لی تھی۔ 2019 میں حکام نے مالندی میں اس کے چرچ کو بند کردیا، جس کے بعد وہ قریبی شاکاہولا جنگل منتقل ہوگیا۔
اس ہولناک واقعے کے بعد کینیا میں مذہبی تنظیموں کی نگرانی اور ان کے لیے سخت قوانین بنانے کے مطالبات سامنے آئے۔ صدر ولیم روٹو نے مئی 2023 میں مذہبی تنظیموں کے قانونی اور انتظامی نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی۔ 2024 میں حکومتی اور سینیٹ کی سطح پر قانون سازی کی تجاویز بھی سامنے آئیں، تاہم یہ تجاویز تاحال قانون نہیں بن سکیں۔



