اس سال مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ کے اپارٹمنٹ خریدنے والوں کو بتایا کہ ان کا مستقبل عمارت کے ڈویلپر یعنی بی این پی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ جڑا ہے۔ یعنی اپنی رقم کی واپسی کے لیے انہیں اسی کمپنی سے رجوع کرنا ہوگا۔
تاہم اب حکومت نے اس معاملے کا ایک مختلف حل پیش کیا ہے کہ خریداروں کو رقم کی ادائیگی کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کرے گی، یعنی اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر ہی پڑے گا۔
4 نومبر کو وفاقی کابینہ نے اس عمارت پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی سربراہی میں قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں رپورٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عمارت کی تعمیر کے لیے زمین کی نیلامی میں ہیرا پھیری کی گئی اور سی ڈی اے بھی اس میں شریک رہی۔ ان کے مطابق بی این پی کے چیف ایگزیکٹو عبدالحفیظ شیخ اس مبینہ اسکینڈل کے مرکزی منصوبہ ساز تھے، جبکہ انہیں اور ان کی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ جن لوگوں کے ساتھ فراڈ ہوا، انہیں ان کا اصل سرمایہ واپس کیا جائے گا اور ادائیگیوں کا حساب بینکوں کے درمیان قرضوں پر لاگو بنیادی شرح سود، یعنی کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (کیبور)، کے مطابق کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اس عمارت کو چند ماہ کے اندر فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ عمارت رہائشی اپارٹمنٹس کے لیے نہیں بننے جا رہی تھی بلکہ 2005 میں اس کی ساڑھے 13 ایکڑ اراضی سی ڈی اے نے ہوٹل کی تعمیر کے لیے نیلام کی تھی، جس کی قیمت 4 ارب 88 کروڑ روپے مقرر ہوئی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اس نیلامی کے عمل میں مبینہ طور پر کی جانے والی بے ضابطگیوں کی تفصیل ایسے بیان کی گئی ہے جیسے نیلامی کے قواعد کو من پسند انداز میں بدلنے کا طریقہ بتایا جا رہا ہو۔
رپورٹ کے مطابق پہلی نیلامی منسوخ کر دی گئی اور قواعد میں نرمی کی گئی، دونوں اقدامات سی ڈی اے بورڈ کی منظوری کے بغیر کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں سنجیدہ بولی دہندگان مقابلے سے دستبردار ہو گئے۔ آخرکار بی این پی گروپ کامیاب قرار پایا، حالانکہ جے آئی ٹی کے مطابق اگر اس کی بولی کا جائزہ طے شدہ معیار کے تحت لیا جاتا تو اسے 100 میں سے صرف 19 نمبر ملنے چاہییں تھے، نہ کہ 83 جو اسے دیے گئے۔
اس کے بعد لیز کا معاہدہ کامیاب قرار پانے والے کنسورشیم کے بجائے ایک دوسری کمپنی کے ساتھ کیا گیا۔ عبدالحفیظ شیخ نے سکیورٹیز ریگولیٹر کے پاس درخواست جمع کرانے کے عین اسی روز اس کمپنی کا نام تبدیل کرکے ’بی این پی (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ رکھ دیا تھا۔ جے آئی ٹی کے مطابق 4 ارب 15 کروڑ روپے کی باقی رقم کی ادائیگی کے لیے درکار بینک گارنٹی بھی سی ڈی اے کے ایک قانونی مشیر کے نجی لیٹرہیڈ پر لکھی گئی رائے کی بنیاد پر ختم کر دی گئی۔ لیز کے معاہدے میں ذیلی لیز کی شق بھی شامل کر دی گئی۔
منصوبے کے منظور شدہ نقشے میں 120 ’سروسڈ اپارٹمنٹس‘ کی گنجائش تھی، لیکن بعد میں 254 اپارٹمنٹس تعمیر کرکے فروخت کیے گئے۔ خریداروں نے ان اپارٹمنٹس کے لیے مجموعی طور پر 9 ارب 46 کروڑ روپے ادا کیے۔
اسلام آباد کے کانسٹیٹیوشن ون منصوبے پر قائم جے آئی ٹی کی رپورٹ آج کابینہ میں پیش کی گئی، جس میں بڈنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں، مبینہ ہیرا پھیری، جعلی دستاویزات اور سی ڈی اے کے بعض افسران کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی نیوز کانفرنس https://t.co/6ds103HBRT
— PMLN Digital Media (@PMLN_Digital_PK) November 4, 2026
جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ سی ڈی اے کے 5 سابق افسران کو بھی اس معاملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان میں اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری بھی شامل ہیں۔ تاہم اب تک کسی کے خلاف فرد جرم عائد نہیں ہوئی۔ نیب کو آئندہ 3 ماہ کے اندر ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عمارت کے تنازع پر عدالتی کارروائی بھی سست رہی۔ 2019 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے بی این پی کی منسوخ شدہ لیز بحال کر دی، تاہم شرط عائد کی کہ کمپنی 8 سال میں 17 ارب 50 کروڑ روپے ادا کرے گی۔
ثاقب نثار نے اس وقت سوال اٹھایا تھا کہ ’جن لوگوں نے اپارٹمنٹس خریدنے کے لیے 4 ارب روپے خرچ کیے، انہیں اب اس کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑے؟‘ سی ڈی اے نے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا کہ بینچ کے ایک اور رکن جسٹس اعجاز الاحسن ماضی میں بی این پی کے وکیل رہ چکے ہیں، لیکن ثاقب نثار نے یہ اعتراض مسترد کر دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن 2023 میں اس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے بی این پی کی نظرثانی درخواست نمٹا دی تھی۔
بی این پی نے ممکنہ طور پر صرف 2 ارب 90 کروڑ روپے ادا کیے، جس کے بعد اس نے ادائیگیاں روک دیں۔ محسن نقوی نے اس معاملے کو پاکستان کی تاریخ کا ‘سب سے بڑا گھپلا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ’جج، بیوروکریٹس، سیاست دان اور بینکرز‘ ملوث تھے۔ تاہم جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کسی جج کا نام نہیں لیا۔
اب اس معاملے کا مالی بوجھ سامنے آ رہا ہے۔ امریکی شہری نواز بھٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2014 میں ایک اپارٹمنٹ تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 2015 میں دوسرا اپارٹمنٹ 5 کروڑ روپے میں خریدا تھا۔
ہم نیوز ڈیجیٹل نے اسٹیٹ بینک کے 6 ماہ کے کیبور شرح سود کی بنیاد پر ان کو ممکنہ طور پر واپس کی جانے والی رقم کا تخمینہ لگایا ہے۔ سادہ شرح سود کے حساب سے انہیں پہلے اپارٹمنٹ کے لیے 10 کروڑ 70 لاکھ اور دوسرے کے لیے 11 کروڑ 40 لاکھ روپے مل سکتے ہیں، جبکہ سود کو اصل رقم میں شامل کرکے دوبارہ حساب لگانے کی صورت میں یہ رقم بالترتیب تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ اور 16 کروڑ 60 لاکھ روپے بنتی ہے۔
نواز بھٹی اس صورت حال کا ذمہ دار ’سی ڈی اے کی غفلت‘ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عمارت کی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے، لیکن مالکان نہ اپنے اپارٹمنٹس فروخت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کے نام منتقل کر سکتے ہیں۔ وہ اس صورت حال سے نکلنا چاہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں مارکیٹ میں رائج شرح سود کے مطابق رقم واپس کی جائے۔

جے آئی ٹی نے 205 خریداروں کو حقیقی خریدار تسلیم کیا ہے۔ ہم نیوز ڈیجیٹل کے تخمینے کے مطابق ان سب کو رقم واپس کرنے پر مجموعی طور پر 16 سے 21 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ تقریباً اتنی ہی رقم ہے جتنی بی این پی کو سپریم کورٹ نے ادا کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن کمپنی نے کبھی پوری ادا نہیں کی۔
اسلام آباد میں 2009 سے پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے ظفر اقبال کے مطابق اس ٹاور میں 45 سو مربع فٹ کا اپارٹمنٹ تقریباً 16 کروڑ روپے، جبکہ 712 مربع فٹ کا اپارٹمنٹ تقریباً 4 کروڑ 5 لاکھ روپے میں فروخت ہو سکتا ہے۔ کرائے بھی خاصے زیادہ ہیں۔ چھوٹے اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ ڈیڑھ سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے تک، جبکہ بڑے اپارٹمنٹ کا کرایہ تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے۔ تاہم عمارت کی تکمیل کا سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث ان اپارٹمنٹس کی فروخت قانونی طور پر ممکن نہیں۔
جے آئی ٹی نے عمارت کی دوبارہ نیلامی کا عمل شفاف انداز میں کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن محسن نقوی کسی ہوٹل چین کے ساتھ براہِ راست معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب 49 ایسے خریدار بھی ہیں جن کی خریداری کی جے آئی ٹی تصدیق نہیں کر سکی، اور رپورٹ میں ان کے لیے رقم کی واپسی کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔ مزید یہ کہ ہائی کورٹ کا مئی میں جاری کیا گیا حکم امتناع اب بھی نافذ ہے، جس کے تحت سی ڈی اے 84 قابض افراد کو اس وقت تک عمارت سے بے دخل نہیں کر سکتی جب تک ان کی اپیلوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کسی کو نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔ لیکن پاکستانی ٹیکس دہندگان نے اس عمارت میں کوئی اپارٹمنٹ نہیں خریدا، اس کے باوجود ممکن ہے کہ انہیں اس ٹاور کی قیمت 2 مرتبہ ادا کرنا پڑے: پہلی مرتبہ 2005 میں حکومت کی جانب سے زمین کم قیمت پر دے کر، اور دوسری مرتبہ اپارٹمنٹ خریداروں کو رقم واپس کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے ادائیگی کرکے۔
