لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا جہاں صبح کے اوقات میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 458 ریکارڈ کیا گیا۔
آلودہ ترین شہروں سے متعلق عالمی ادارے آئی کیو ایئر کی فہرست میں بھارتی دارالحکومت دہلی 213 اور کولکتہ 193 اے آئی کیو کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
محکمہ تحفظ ماحول پنجاب (ای پی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح انتہائی بلند رہی۔ برکی روڈ کا اے کیو آئی 609، علامہ اقبال ٹاؤن کا 583 اور ماڈل ٹاؤن کا 447 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ڈیفنس فیز 5 میں 312 اور عسکری 10 میں 223 رہا۔

ای پی اے کے مطابق درجہ حرارت میں کمی اور ہوا کی رفتار کم ہونے کے باعث شہر میں فضائی آلودگی کی سطح میں عارضی طور پر اضافہ ہوا ہے تاہم صبح 11 بجے کے بعد درجہ حرارت اور ہوا کی رفتار بڑھنے سے فضائی معیار میں بہتری آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پنجاب بھر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کارروائیاں جاری رہیں۔ حکام نے 328 صنعتی یونٹس اور 543 بھٹوں کا معائنہ کیا، خلاف ورزیوں پر 11 صنعتی یونٹس سیل اور 4 بھٹے مسمار کردیے گئے جبکہ 11 مقدمات بھی درج کیے گئے۔
حکام کے مطابق ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر صنعتی یونٹس کو مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے جبکہ بھٹوں کے مالکان کو 20 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔
کارروائیوں کے دوران صوبے بھر سے غیر معیاری پلاسٹک کے 726 کلوگرام سامان کو بھی قبضے میں لیا گیا جبکہ 4 مقامات سیل کرکے 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کسانوں سے فصلوں کی باقیات نہ جلانے کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں کو بھی کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک جلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔



