وزیراعظم شہباز شریف نے رجسٹرڈ افراد کو سبسڈی پر پیٹرول فراہم نہ کرنے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت فیول ریلیف پروگرام پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے سبسڈی پروگرام پر عمل درآمد اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل، رکشہ، اور 800 سی سی گاڑیاں رکھنے والے شہریوں کو ستمبر 2026 کے وسط سے پیٹرول پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ جس کے مطابق رجسٹرڈ موٹرسائیکل اور رکشے پر ماہانہ 2000 روپے اور 800 سی سی گاڑیوں پر ماہانہ 3000 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس میں پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا. وزیراعظم نے پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی اب تک کی پیشرفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ، رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں. مستحق شہریوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی.
وزیراعظم نے اسکیم کے حوالے سے مانیٹرنگ اور کارگر ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کی. وزیراعظم نے پیٹرولیم سبسڈی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس کو پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبسیڈی اسکیم کے تحت اب تک 15,519,282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 15.06 ملین موٹر بائیکس اور 449 ہزار 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان ہیں. سبسیڈی اسکیم کے تحت اب تک 63٫153,685 ٹوکن جاری ہوئے جن میں سے 59,445,347 ٹوکنز کو استعمال /ریڈییم کیا گیا.فیول سبسیڈی اسکیم کے تحت 4 نومبر، 2026 تک 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں. پرائم منسٹر فیول ریلیف اسکیم کے حوالے کی معلومات اور شکایات کے ازالے کے لئے صارفین اور پیٹرول پمپس کے لئے الگ الگ کال سینٹرز قائم کئے گئے ہیں.
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظفر اقبال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
___
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) November 5, 2026
شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے سے شہریوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف سبسڈی پروگرام مستقبل میں عوامی فلاح کے دیگر منصوبوں کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک مجموعی طور پر ایک کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار 282 شہری پروگرام میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں ایک کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکل مالکان جبکہ 4 لاکھ 49 ہزار 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مستحقین کے لیے 6 کروڑ 31 لاکھ 53 ہزار 685 فیول سبسڈی ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے 5 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار 347 ٹوکن استعمال ہوچکے ہیں، جبکہ 4 نومبر 2026 تک پروگرام کے تحت 28 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔
سبسڈی سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ صارفین اور پیٹرول پمپس کی سہولت کے لیے الگ الگ کال سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں پروگرام سے متعلق معلومات اور شکایات کا ازالہ کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے مؤثر مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیش بورڈ کی تیاری پر وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔



