وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ میں تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کی گئیں۔ جس پر ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، جنہیں صوبائی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی کارروائیوں کے علاقوں میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی آرٹیکل 199 کے تحت اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت متعدد مقدمات آتے ہیں، کیا ہائیکورٹ روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی؟
وکیل شاہ فیصل الیاس نے عدالتی حکم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے استدعا کی کہ حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے انہیں سنا جائے۔ صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے میں فریقین کو نوٹسز جاری کر رہی ہے، دیگر فریقین بھی عدالتی حکم دیکھ کر اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے وکیل شاہ فیصل الیاس سے کہا کہ وہ عدالت کا حکم پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کر دیں۔



