امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کا اونٹ ہفتوں کی محنت اور تردد کے بعد بس بیٹھا ہی چاہتا، ایسے میں ہر سمت ہی سیاسی تجزیوں کی دھول اڑائی جا رہی ہے، اور بظاہر اس گرد کے آئندہ دو سال تک چھٹنے کے امکانات بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔
اگلے دو سال تک امریکی اور دنیا بھر کے سیاسی پنڈت ٹرمپ دور کی چنیدہ کامیابیوں کو جس سب سے بڑی ناکامی کا کفن پہنائیں گے اس کے ماتھے پر جلی حروف میں مڈٹرم لکھا ہوا ہو گا۔
سو لوہا گرم دیکھ کر اس پر چوٹ لگانے کے مصداق ہم بھی اپنی گذارشات کے ساتھ آن موجود ہیں۔
مڈٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی جماعت نے امریکی سیاسی تاریخ کی بدترین شہ مات کا سامنا کیا ہے جس میں غیروں سے زیادہ اپنوں کی کرم نوازی کار فرما دکھائی دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ کو امریکی تاریخ کے شاید واحد ایسے صدر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جن کی قیادت میں رپبلکن جماعت نے مقبولیت کی بلندیوں سے غیر مقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں کا سفر ایک دہائی سے بھی کم وقت میں طے کیا ہے۔
لیکن اس محنت کا زیادہ تر صلہ بذات خود ڈونلڈ ٹرمپ کے نام جاتا ہے۔
امریکی سماج کا کوئی ایسا فعال طبقہ نہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان یا ان کے کسی عمل سے نشانہ نہ بنا ہو۔
خواتین کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات 2016 کے انتخابات سے قبل بھی سامنے آ چکے ہیں اور وہ جن الفاظ میں خواتین کو مخاطب کرتے ہیں اس کی مثال حالیہ مہم کے دوران گلوکارہ نکی مناج سے ان کا مکالمہ تھا۔
سیاہ فاموں، اسپانوی امریکیوں اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں یا امریکا میں موجود کمیونیٹیز کے بارے میں اپنے اقوال غیر زریں وہ بغیر کسی طلب کے بھی مارکیٹ میں بہم پہنچاتے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کے بارے میں ان کی سوچ کی عکاسی اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ ہر اس مسلمان کو اپنا، امریکا اور مغربی طرز زندگی کا دشمن سمجھتے ہیں جو امریکا میں کم سے کام ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہو یا امریکی پالیسیوں کے نفوذ میں اتنا آگے چلا جائے کے ٹرمپ خود اس کو روکنے لگیں کہ بس کر پگلے رلائے گا کیا۔

اب بات کرتے ہیں اس سے اہم عنصر کی جس نے اس الیکشن میں اگر سب سے اہم نہیں تو پھر بھی اہم تر کردار ادا کیا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ گو کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کی بھرپور فرمائش پر شروع کی تھی لیکن اس کو ختم نہ کرنے اور طول دینے میں یقینی طور پر ان کی اپنی مرضی شامل تھی۔
ایسے میں کبھی اسرائیلی اور کبھی امریکی میڈیا کی جانب سے یہ درفنطنیاں چھوڑنا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیچ بات بس بگڑی کے اب بگڑی۔
دونوں کے درمیان اس نورا کشتی کو اگر بالی وڈ فلم کچھ کچھ ہوتا ہے کہ کرداروں میں ڈھالا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ راہول اور انجلی آپس میں لڑتے تو رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔
اور ویسے بھی نیتن یاہو اور ٹرمپ اب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں جو اس وقت آبنائے ہرمز کے گہرے پانیوں میں ایک نہ تھمنے والے بھنور میں پھنس چکی ہے۔
تیل کی ترسیل میں کمی کے بعد بڑھتی قیمتوں سے دنیا کا ہر طبقہ ہی متاثر ہوا لیکن امریکی معاشرے میں جہاں چیزوں کی قیمت میں ایک ایک سینٹ کے اضافے کو لے کر ہفتوں تک بحث رہتی ہے اس کے اثرات عوامی سطح پر فوری محسوس کیے جاتے ہیں۔
اور اس کی قیمت شاید ایک عام امریکی شہری کے بس سے باہر تھی جس نے اپنے ووٹ کی کرنسی میں اس کا نقصان ٹرمپ کے اکاؤنٹ میں واپس منتقل کر دیا ہے۔
خیر کہنے اور لکھنے کو بہت ہے لیکن یہ الفاظ اختتام کے لیے کافی رہیں گے کہ ایران جنگ ٹرمپ کے لیے وہ کمبل بن چکا ہے جس سے وہ نکلنا چاہتے ہیں لیکن کمبل انہیں نکلنے نہیں دیتا اور اس پر ستم یہ کہ گیم آف تھرونز کے فینز کی زبان میں ونٹر از کمنگ۔۔۔!
