نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار ایوی ایشن ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مینز نے قومی ایئرلائن(پی آئی اے) کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔
پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پیر 2 نومبر کو ان کی تقرری کی، جس کے بعد وہ ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ ایئرلائن کے نئے سربراہ بن گئے ہیں۔ عامر حیات تقریباً ساڑھے چار سال تک پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو رہے اور اس دوران ایئرلائن کی نجکاری کی تیاریوں کی نگرانی کی۔
ایڈرین ہیملٹن مینز کو عالمی ہوا بازی کی صنعت میں 3 دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ ان کا کیریئر 1997 میں ایئر نیوزی لینڈ سے شروع ہوا جہاں انہوں نے ہوا بازی کے شعبے میں کام کا آغاز کیا۔
PIA’ Board is pleased to announce the appointment of Mr. Adrian Hamilton-Manns as the CEO.
He brings a wealth of leadership & strategic experience and his appointment marks a pivotal chapter in PIA’s ongoing transformation. He has to his credit managing three airlines as a CEO and many others in leadership roles, and is considered a world expert in transformation and reviving airlines. His professional experience spans over 30 years.
— PIA (@Official_PIA) November 2, 2026
بعد ازاں وہ جنوبی افریقی ایئرلائنز، بھارت کی انڈیگو، ورجن آسٹریلیا کی پیسیفک بلیو اور انڈونیشیا کی منڈالا ایئرلائنز سمیت مختلف بین الاقوامی فضائی کمپنیوں میں سینئر تجارتی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔
2012 سے 2016 تک انہوں نے افریقی خطے میں کام کرنے والی کم لاگت کی ایئرلائن flyafrica.com کے بانی چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دیں۔
2020 سے 2024 تک وہ قازقستان کی ایئر آستانہ گروپ کی ذیلی کم لاگت ایئرلائن فلائی آریستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو رہے۔ جولائی 2024 میں انہوں نے عمان کی ایئرلائن سلام ایئر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالا اور 2026 تک اس منصب پر فائز رہے۔
بزنس ریکارڈرکی رپورٹ کے مطابق ہیملٹن مینز نے نیوزی لینڈ کی میسی یونیورسٹی سے بیچلر آف ایوی ایشن اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف کمبریا سے سیاحت کے شعبے میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
ہیملٹن مینز کے تجربے کا بڑا حصہ کم لاگت والی ایئرلائنز کی قیادت سے متعلق ہے۔ ان فضائی کمپنیوں کا کاروباری ماڈل نسبتاً کم اخراجات اور مسافروں کو اضافی خدمات فراہم کرکے آمدنی بڑھانے پر مبنی ہوتا ہے۔
فلائی آریستان میں ان کے دور کے دوران ایئرلائن نے نمایاں توسیع کی۔ ایئر آستانہ گروپ کے اعدادوشمار کی بنیاد پر 2023 سے 2020 کے درمیان فلائی آریستان کی آمدنی میں 384 فیصد اضافہ ہوا، جو 5 کروڑ 74 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 27 کروڑ 78 لاکھ ڈالر ہوگئی۔اسی عرصے میں ایئرلائن کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 19 ہوگئی۔
فوربز مڈل ایسٹ کے مطابق سلام ایئر نے اپریل سے جون 2025 کے دوران 5 ہزار 144 پروازیں چلائیں اور 7 لاکھ 12 ہزار 610 مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی۔
ہیملٹن مینز کو فوربز مڈل ایسٹ نے خطے کے سیاحت اور سفری شعبے میں تبدیلی لانے والے 100 رہنماؤں میں بھی شامل کیا تھا۔
پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کا چیلنج
ایڈرین ہیملٹن مینز ایسے وقت میں پی آئی اے کے سربراہ بنے ہیں جب ایئرلائن کئی سال کے مالی خسارے، آپریشنل مشکلات اور مارکیٹ شیئر میں کمی کے بعد نجی شعبے کے انتظام میں کام کر رہی ہے۔
حکومت نے سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع کیا تھا۔
23 دسمبر 2025 کو عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی لگائی۔ یہ پاکستان میں تقریباً 2 دہائیوں بعد نجکاری کا ایک بڑا عمل تھا۔
29 جون 2026 کو ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول نئے مالکان کو منتقل ہوگیا۔
کنسورشیم نے نجی انتظام کے پہلے سال میں پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ 8سال میں ایئرلائن کے بیڑے کو 19 سے بڑھا کر 64 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
نئے سی ای او کے لیے اہم اہداف
پی آئی اے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو بھی وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایئرلائن کو حال ہی میں ناروے کی نورس اٹلانٹک ایئر ویز سے لیز پر حاصل کیا گیا پہلا بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر موصول ہوا ہے۔
اس کے علاوہ پی آئی اے بوئنگ کے ساتھ 16 ڈریم لائنر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی مذاکرات کر رہی ہے۔
تاہم ہیملٹن مینز کے لیے پی آئی اے کی قیادت ان کی سابقہ ایئرلائنز سے مختلف نوعیت کا چیلنج ہے۔ ان کی سابقہ ذمہ داریوں کا زیادہ تر تعلق کم لاگت والی ایئرلائنز سے رہا ہے، جبکہ پی آئی اے ایک مکمل سروس ایئرلائن ہے، جس کے ملکی اور بین الاقوامی روٹس، بڑا انتظامی ڈھانچہ اور وسیع آپریشنل ذمہ داریاں ہیں۔
