دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج ’بائنانس‘ میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی اور ہیکنگ کے نتیجے میں اندازاً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے لٹ گئے ہیں، جسے ڈیجیٹل کرنسی کی پوری تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی ہیکنگ اور ڈکیتی قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بائنانس انتظامیہ نے اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کی رقم کا پتہ چلا کر اسے بلاک کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ باقی ماندہ 3.3 ارب ڈالر کے فنڈز کی موجودہ صورتحال پر کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ فراہم نہیں کی گئی، تاہم بائنانس کی شریک بانی ژی ہے نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کمپنی اس ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام مالیاتی نقصانات کا ازالہ خود کرے گی۔
Binance will cover all losses.
As a precaution, all deposits and withdrawals are temporarily suspended while our team conducts security checks, freezes funds, and works with law enforcement.
We are working around the clock and will share a full post-mortem once the investigation is complete. Please rely only on official Binance channels for updates.
— Binance (@binance) October 30, 2026
کرپٹو مارکیٹ میں پیش آنے والے اس ناگہانی واقعے نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں کے فنڈز کی حفاظت اور ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سال 2008 میں بٹ کوائن کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کرپٹو انڈسٹری مسلسل متعدد بڑے ہیکنگ حملوں کا شکار ہوتی رہی ہے۔
فروری 2025 میں 1.5 ارب ڈالر کے ٹوکنز کی چوری
کرپٹو کرنسی ایکسچینج ‘بائی بٹ ‘ کو اس وقت شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب ہیکرز نے اس کے محفوظ سمجھے جانے والے ’کولڈ والٹ‘ سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل ٹوکنز اڑا لیے۔
یہ والٹ عام طور پر انٹرنیٹ سے منقطع یعنی آف لائن رکھا جاتا ہے تاکہ سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے اور یہ بنیادی طور پر ایتھر ٹوکنز کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
اگست 2021 میں 610 ملین ڈالر کا ڈاکہ
پیئر ٹو پیئر ٹوکن ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ‘پولی نیٹ ورک ‘ پر ہیکرز نے حملہ کر کے 610 ملین ڈالر کا ڈاکہ ڈالا۔ اس واقعے نے ابھرتے ہوئے ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) سیکٹر کی خامیاں واضح کر دیں، تاہم بعد ازاں ہیکرز نے چوری کی گئی رقم کا تقریباً تمام حصہ واپس کر دیا تھا۔
مارچ 2022 میں 540 ملین ڈالر کی ہیکنگ
مقبول آن لائن گیم ’ایکسی انفینیٹی‘ سے منسلک بلاک چین پرائمری نیٹ ورک ‘رونن نیٹ ورک ‘ پر حملہ کر کے ہیکرز نے تقریباً 540 ملین ڈالر کے اثاثے چرا لیے۔ اس سائبر حملے میں ہیکرز نے 173600 ایتھر ٹوکنز اور 25.5 ملین یو ایس ڈی کوائن ٹوکنز حاصل کیے تھے۔
جنوری 2018 میں 530 ملین ڈالر کا ڈاکہ
ٹوکیو میں واقع کرپٹو ایکسچینج ‘کوائن چیک ‘ کے ’ہاٹ والٹ‘ کو نشانہ بناتے ہوئے ہیکرز نے 530 ملین ڈالر نکال لیے۔ اس واقعے نے ایکسچینجز کی آن لائن سیکیورٹی پر بڑی بحث چھیڑی، جبکہ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اس کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
2011 سے 2014 تک 500 ملین ڈالر کے بٹ کوائنز کا صفایا
ٹوکیو کی مشہور بٹ کوائن ایکسچینج ’ایم ٹی گاکس‘ جو کسی زمانے میں دنیا کی 80 فیصد بٹ کوائن ٹریڈ سنبھالتی تھی، تاریخ کی ابتدائی اور بڑی ہیکنگ کا شکار ہوئی۔ مسلسل ہیکنگ سے 500 ملین ڈالر کے قریب بٹ کوائنز چوری ہوئے جس کے بعد 2014 میں کمپنی نے دیوالیہ ہونے کی درخواست دائر کر دی اور تقریباً 24 ہزار سے زائد صارفین اپنے سرمائے سے محروم ہو گئے۔
فروری 2022 میں 320 ملین ڈالر کی چوری
ڈی سینٹرلائزڈ فنانس پلیٹ فارم ’ورم ہول‘ پر حملہ کر کے ہیکرز نے ایک لاکھ 20 ہزار ڈیجیٹل ٹوکنز چرا لیے جن کی مالیت 320 ملین ڈالر بنتی تھی۔ یہ ٹوکنز ایتھر کرپٹو کرنسی سے منسلک تھے، تاہم بعد میں اس پلیٹ فارم کے ڈویلپرز کو خریدنے والی کمپنی ’جمپ ٹریڈنگ‘ نے صارفین کے تمام متاثرہ فنڈز کا ازالہ خود کیا۔


