قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد کی منظوری، کراچی میں کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، اور شرحِ سود کے خاتمے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹسز کے علاوہ متعدد اہم بلوں کی منظوری دی گئی۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے متعلق قرارداد اجلاس کے آغاز پر چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے مشترکہ طور پر پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
قرارداد میں 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی جارحیت کا سیاہ ترین دن قرار دیا گیا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینے پر زور دیا گیا۔
ایوان نے کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما سید امین الحق نے کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، خراب فیڈرز کی عدم بحالی، اور کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر توانائی کی توجہ چاہی۔
نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری پاور ڈویژن عامر طلال خان نے ایوان کو بتایا کہ بجلی کی بندش اکثر اوقات کسی ہنگامی ریپیئرنگ یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی مانگ 33 سو میگا واٹ کے قریب ہے جبکہ باقاعدہ سپلائی 29 سو رہتی ہے، لیکن درمیان میں اکتوبر کے پہلے 2 ہفتوں کے دوران ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر این ایل جی) کی کمی کی وجہ سے بجلی کی قلت پیدا ہوئی تھی جو کہ درست کر لی گئی ہے اور اب کوئی کمی نہیں ہو گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس قلت کے دوران بھی انڈسٹری کو بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بحال رہی جبکہ گھریلو صارفین کے فیڈرز پر صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی۔
اس پر امین الحق کو ایک اور سوال کا موقع دیا جس پر انہوں نے کے الیکٹرک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کا شمار ان کمپنیوں میں ہوتا ہے جسے عوام کرپشن کی وجہ سے شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ ادارہ کراچی میں ایک مافیا کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ”اس نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی ہے، نہ وہ نیپرا کی بات سنتی ہے، نہ وہ صوبائی حکومت کی بات سنتی ہے اور نہ وہ وفاقی حکومت کی بات سنتی ہے۔“
انہوں نے کہا ’صرف ڈیڑھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ‘ کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہرِ قائد میں 12 گھنٹے، 16 گھنٹے، اور 18 گھنٹے کی 3 اقسام کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور شدید گرمی کے ساتھ ساتھ اب رات کے اوقات میں بھی بجلی بند کی جاتی ہے۔ کے الیکٹرک اربوں روپے کی اوور بلنگ کر کے کما رہی ہے، لیکن کراچی کی پاور جنریشن یا بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔
جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے تسلیم کیا کہ نیپرا کے مروجہ قوانین کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کرنا سخت ممنوع ہے، اور اگر کراچی میں رات کو بجلی کی بندش کی جا رہی ہے تو حکومت اس کی فوری تحقیقات کرے گی۔
معاملے کی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے کے الیکٹرک کے اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
علاوہ ازیں، جمیعت علمائے اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے ملک میں شرحِ سود کی موجودہ سطح سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔
نعیمہ کشور نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ شرحِ سود میں فوری کمی کی جائے گی، لیکن مسلسل سفارتی رفت و آمد اور دعووں کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا اور شرحِ سود بڑھتی جا رہی ہے۔
توجہ دلاؤ نوٹس پر حکومت کا موقف دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اکثریتی ووٹ سے شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری صورتحال کے اثرات کو کم کرنا، ملکی معیشت کو بہتر کرنا، اور عام آدمی کو سہولت دینا ہے۔
اس پر نعیمہ شکور نے اعتراض اٹھایا کہ ”ہم سے تو یہاں بات کی گئی تھی کہ اگلے سال تک شرح سود کو 7 فیصد تک لے کر جائیں گے مگر یہ کونسی عوام کو سہولت دی گئی ہے کہ شرح سود 12 فیصد کر دی گئی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 4 سال کے دوران ہم نے 16 ارب روپے صرف سود ادا کیا ہے اور ساتھ ہی سودی نظام کے نقصانات پر روشنی ڈالی۔
جواباً پارلیمانی سیکرٹری نے وہی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اس بات کا اعتراف بھی کیا جانا چاہیے کہ حکومت شرح سود کو 22 فیصد سے 11 فیصد تک لے آئی۔ ان کے مطابق شرح سود میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مہنگائی بڑھتی اور عام آدمی کا نقصان ہوتا۔ ”یہ اقدامات مہنگائی کم کرنے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے۔“
انہوں نے ہاؤس کو مزید بتایا کہ حکومت ملک سے سودی نظام کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ سال 2027/28 تک پاکستان کے معاشی نظام کو مکمل طور پر ’انٹرسٹ فری‘ (سود پاک) بنا دیا جائے۔
صحافیوں کا واک آؤٹ
اجلاس کے دوران پارلیمانی رپورٹرز اور صحافیوں نے وقت پر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جبری برطرفیوں پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے نہ صرف قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا بلکہ اجلاس کی کوریج روکنے کے بعد پریس گیلری بھی خالی کردی۔
ملاقات کے بعد بلال اظہر کیانی نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے متاثرہ اینکرز، رپورٹرز اور ورکرز کی تفصیلات اور بقایا جات کا ڈیٹا طلب کر لیا ہے اور اس معاملے پر وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے بھی بات کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیرِ اطلاعات پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی اور میڈیا ملازمین کی ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ مملکت نے ایوان کو صحافیوں کی اس تجویز سے بھی آگاہ کیا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل اور ٹی وی چینلز کے لائسنسنگ قوانین کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے۔
بلال اظہر کیانی نے پارلیمانی کارروائی کی کوریج میں صحافیوں کے بنیادی کردار کو سراہتے ہوئے بائیکاٹ کرنے والے رپورٹرز سے پریس گیلری میں واپس آ کر اجلاس کی کوریج دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی۔
نوٹ: خبر میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔
