آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے قیامت خیز زلزلے کی تباہ کاریاں اور لرزہ خیز یادیں 21 سال بعد بھی تازہ ہیں۔ چند لمحوں کے اس ہولناک زلزلے میں 87 ہزار سے زائد افراد جاں بحق، ہزاروں زخمی اور کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح 8 بج کر 52 منٹ پر رمضان المبارک کے مہینے میں مظفر آباد، باغ، وادی نیلم، چکوٹھی اور دیگر علاقوں میں 7.6 شدت کا قیامت خیز زلزلہ آیا جس میں خیبرپختونخوا(اس وقت صوبہ سرحد) کی 10 سے زائد تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ زلزلے کا مرکز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 95 کلومیٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔
زلزلے کے نتیجے میں لاکھوں مکانات زمین بوس ہو گئے۔ 2005 میں آنے والے زلزلے میں مظفرآباد کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں مکانات، اسکولز، کالجز دفاتر، ہوٹلز، اسپتال، مارکیٹیں اور پلازے پلک جھپکنے میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
اس علاقے میں میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے جب کہ پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔زلزلے کے متاثرین کے عزم و ہمت کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور بے پناہ جانی و مالی نقصان کے بعد دنیا بھر سے پاکستان کو مالی امداد دی گئی۔
‘متاثرین اورشہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،وزیراعظم آزاد کشمیر’
وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے یوم شہدائے زلزلہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ 8اکتوبر 2005 کا زلزلہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سانحہ ہے، اس دن ہم اپنے پیاروں کی جدائی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ زلزلے میں ہزاروں عزیز و اقارب ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے،زلزلے کے بعد آزاد کشمیر کی تعمیرِ نو میں عالمی برادری نے بھرپور تعاون کیا جس پر تمام دوست ممالک اور عالمی برادری کے شکرگزارہیں۔متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کا سفر عالمی تعاون سے ممکن ہوا۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے دن رات خدمات انجام دیں،8 اکتوبر پاکستان کی تاریخ میں قومی یکجہتی کی عظیم مثال بن گیا، متاثرین اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،آج کے دن ہمیں آزاد کشمیر کو مضبوط بنانے کا عہد کرنا ہوگا،اللہ تعالیٰ زلزلہ شہداء کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔
‘مدد کرنے پر دوست ممالک کے شکرگزارہیں، صدر مملکت’
صدرمملکت آصف علی زرداری نے 8 اکتوبر 2005 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے زلزلے کے دوران مدد کرنے پر سعودی عرب، امریکا، چین، ترکیہ، ایران، جاپان اور کیوبا کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تنزلی جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، آنے والی نسلوں کے تحفظ کی ذمہ داری سمجھنا ہوگا اوربہترین اقدامات کرنے ہوں گے۔
Message from Mr. Asif Ali Zardari,
President of the Islamic Republic of Pakistan on the occasion of National Resilience Day, 8 OctoberNational Resilience Day is a solemn occasion to remember the thousands of precious lives lost in the devastating earthquake of 8 October 2005 and to pay tribute to the survivors who rebuilt their lives with courage and determination. We honour the bereaved families and all those who stood beside affected communities in their hour of need.
The tragedy remains etched in our national memory, but so does the extraordinary compassion and collective strength shown by the people and institutions of Pakistan, with support from international partners. The experience demonstrated that in times of adversity, our ability to protect one another and recover together is one of our greatest strengths. The most meaningful tribute to those we lost is to turn the lessons of the past into measures that better protect lives and communities in the future.
I express my sincere gratitude to the international community, including countries such as Saudi Arabia, the United States, China, Turkey, Iran, Japan and Cuba, for their solidarity and assistance during the earthquake. I also pay tribute to Pakistan’s national media, charitable organisations and countless volunteers who worked alongside public institutions to support affected communities. Their contribution remains an important part of our national experience of responding to disaster and helping people in times of need.
Pakistan today faces an increasingly complex risk environment, intensified by climate change, urbanisation and environmental degradation. Disaster resilience must therefore be treated as an essential part of national development and our responsibility towards future generations. We must move from reacting to emergencies towards anticipating risks, with scientific knowledge, reliable data and emerging technologies playing a greater role in this effort.
Next Generation Technology (NGT) at NDMA represents an important step in this direction. Advanced analytics, satellite technologies, predictive modelling and artificial intelligence can strengthen early warning systems, improve risk assessment and support better-informed decisions. These capabilities can help us prepare earlier and respond more effectively when disasters strike.
Resilience also depends on partnerships, trust and our collective ability to mobilise resources. The Global Resilience Hub is another important step towards strengthening Pakistan’s national resilience by bringing together key national and humanitarian stakeholders for greater coordination at the regional and global levels. NGT and the Global Resilience Hub can therefore serve as complementary elements of our evolving national resilience framework.
A resilient Pakistan must also integrate risk reduction into development planning. Homes, schools, roads and essential services must be planned and strengthened with an understanding of future risks. For ordinary citizens, this means safer places to live, learn and work and greater confidence that essential services can continue when communities face a disaster. Regional and global cooperation in early warning, scientific research, technological innovation and humanitarian assistance must also be strengthened.
On National Resilience Day, I call upon all institutions, communities and citizens to recognise resilience as a shared national responsibility. By combining the strength of our people with science, technology and sound planning, we can build a Pakistan better prepared for the uncertainties of tomorrow.
May Allah Almighty guide our efforts and protect our beloved homeland and its people.
Pakistan Zindabad!
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 7, 2026
صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کا تعارف ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے،ترقیاتی منصوبہ بندی میں خطرات میں کمی کو شامل کرکے ہی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔
‘قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیرہے، شہبازشریف’
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے بھی شہداء کو خراجِ عقیدت اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم کا عزم اور باہمی تعاون کا مظاہرہ تاریخ کا درخشاں باب ہے۔
شہبازشریف نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے صلاحیت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی،قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے پیشگی تیاری اور ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، حکومت آفات سے نمٹنے کیلئےجدید ڈیٹا اور ارلی وارننگ سسٹمز کو مؤثر بنا رہی ہے۔
‘انسانی جانوں اورانفراسٹرکچر کا تحفظ قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے،اسپیکر قومی اسمبلی’
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2005کے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستانی قوم کا عزم، ایثار اور یکجہتی درخشاں باب ہے،قدرتی آفات کے نقصان سے بچاؤ کیلئے پیشگی منصوبہ بندی، اقدامات اور تعاون ناگزیر ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی یومِ استقامت پر پیغام
اسپیکر سردار ایاز صادق کا 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے شہداء اور متاثرین کو خراجِ عقیدت
8 اکتوبر 2005ء کا تباہ کن زلزلہ قومی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق
2005 کے زلزلے کے بعد قوم کا عزم، ایثار اور یکجہتی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور مؤثر ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق
قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے بچاؤ کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق
انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، اسپیکر سردار ایاز صادق۔
مؤثر پیشگی انتباہی نظام قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق
قومی یومِ استقامت عزم، اتحاد اور ثابت قدمی کے ساتھ ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کا پیغام دیتا ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق
اسپیکر سردار ایاز صادق کی 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا۔
@AyazSadiq122 @appcsocialmedia @PTVNewsOfficial @OfficialRadioPK— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) October 8, 2026
ایاز صادق نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ ہماری قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے،مؤثر پیشگی انتباہی نظام قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
قیامت خیز زلزلے میں پاکستانی قوم کا جذبہ ایثار ناقابلِ فراموش ہے، وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ قیامت خیز زلزلے میں پاکستانی قوم کا جذبہ ایثار ناقابلِ فراموش ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ زلزلوں، سیلابوں اور اسموگ سے نمٹنے کیلئے مؤثر پالیسیاں ناگزیر ہیں۔بروقت تیاری سے ہی قدرتی آفات میں نقصان سے بچا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب نے سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیا جس میں لاکھوں جانیں اور مویشی بچائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پاک فوج، نیوی، فضائیہ اورریسکیوادارے قوم کا فخر ہیں،پی ڈی ایم اے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔

