ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کی درخواست نیپرا میں دائر کر دی۔
نیپرا نے تین ہفتے قبل سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی تھی جس سے صارفین پر تقریباً 12 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا تھا، جبکہ اگست میں ملک بھر کے لیے بجلی 75 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی۔
سی پی پی اے نے درخواست جولائی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی ہے۔ درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج سماعت کرے گی۔
جولائی کے دوران پانی ، کوئلے اور گیس سے کتنی بجلی پیدا ہوئی
سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران پانی سے 39.81 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جبکہ درآمدی کوئلے سے 14.34 فیصد اور مقامی کوئلے سے 10.91 فیصد جبکہ درآمدی گیس سے 10.78 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔
سی پی پی اے کے مطابق اگست میں ڈسکوز کو 14 ارب 46 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، ڈسکوز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی لاگت 8 روپے 82 پیسے فی یونٹ رہی۔
نیپرا سماعت کے دوران سی پی پی اے کی درخواست، بجلی کی پیداوار کی لاگت اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ لے گا۔ اتھارٹی کی جانب سے درخواست کی منظوری کی صورت میں اضافی رقم کا بوجھ بجلی صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔
نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کی درخواست کی منظوری کے بعد ملک بھر کے بجلی صارفین پر 29 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔


