کراچی کی نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی منظوری دے دی گئی۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن مبینہ طور پر تفتیش اور طبی معائنے میں سامنے آنے والی خامیوں سمیت کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
میر رضا کراچی کے نوجوان تاجر تھے، جو 28 جولائی 2026 کو لاپتا ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر سے ان کی لاش ملی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کے امکان کے طور پر دیکھا گیا۔ کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب قبر کشائی کے بعد آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی۔ جس کے مطابق میر رضا کی موت کے شواہد خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ بعد ازاں حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے موت کی وجہ گولی لگنے کو قرار دیا۔
جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن 24 اگست کو جاری کیا گیا تھا، کمیشن نے 27 اگست کو باقاعدہ کام کا آغاز کیا تھا، محکمہ داخلہ سندھ نے کمیشن کو ایک ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی
جوڈیشل کمیشن کی ایک ماہ کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی، جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور رپورٹ مرتب کرنے کے لیے 15 اکتوبر تک مدت میں توسیع کے لیے وزیراعلیٰ کو خط لکھا تھا۔
کمیشن کے رجسٹرار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست منظور کر لی۔
کمیشن نے باقی رہ جانے والے گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور حتمی رپورٹ پر کام کے لیے کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کر رکھی ہے۔
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ فوکل پرسن جاوید ابڑو نے بتایا کہ وزیراعلی نے سمری منظور کرکے کابینہ کو بھیج دی ہے۔ آج کمیشن میں کیس کے دوسرے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل کے افسر کاشف کا بیان ریکارڈ ہونا تھا، کمیشن کی مدت میں توسیع کا ںوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی گئی۔
میر رضا کے خاندان نے پولیس پر بہتان نہیں لگایا، وکیل
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر رضا کے خاندان نے پولیس پر بہتان نہیں لگایا، آج شام چار بجے تک خاندان کی جانب سے سوالنامہ ارسال کر دیں گے۔
میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی گیارہویں سماعت چار روز قبل جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوئی تھی۔ جس دوران سیکریٹری صحت طاہر سانگی، ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد شہریار میمن اور پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی، پولیس تفتیش، خاندان کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج، میر رضا کے فون، پستول، گواہوں، گیسٹ ہاؤس، گاڑیوں اور مبینہ مالی معاملات پر سوالات کیے۔


