سپریم کورٹ کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل اور فوری رہائی کے حکم پر شیریں مزاری آبدیدہ ہوگئیں۔
شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’اللہ کا شکر ہے، سپریم کورٹ سے ہمیں بہت امیدیں تھیں اور آج انصاف مل گیا۔‘
شیعی مزاری ایمان مزاری کو ضمانت کے حکم پر آبدیدہ ۔۔
اللہ کا شکر ہے۔ سپریم کورٹ سے ہمیں بہت امیدیں تھی اور آج انصاف مل گیا۔۔ شیعی مزاری pic.twitter.com/2WwsWQd9HF
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) September 17, 2026
ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب سے پہلے اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں ، ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے ہمیں گھر بیٹھ کر سپورٹ کیا،جیلوں میں قید لوگوں کی مزاحمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور آج ہمیں اس کا سب سے بڑا ثبوت مل گیا۔
اہم ترین، ڈاکٹر شیریں مزاری اور وکیل فیصل صدیقی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خوشی سے آپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکے pic.twitter.com/6vjzIVPhpW
— Muhammad Zahid Sharif Chaudhry (@Zahidsharif0000) September 17, 2026
دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف شخصیات کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔
صحافی حیدر عباسی نے ایک پوسٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی قید اور 17،17 سال کی سزائیں انتہائی غیر معمولی تھیں، جبکہ انہوں نے ایمان اور ہادی کو جیل میں رہنے کے دوران ثابت قدم رہنے پر بہادر قرار دیا۔
Great news. Their imprisonment was ridiculous. 17-year sentences even more ridiculous. Both Imaan and Hadi incredibly brave for enduring this… https://t.co/X9UtZPraUF
— Haider Abbasi (@HaiderKAbbasi) September 17, 2026
صحافی اسد رحیم خان نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ شکر گزار ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے معاملے میں مزید پیش رفت ہوگی۔
Shukar. May this begin the end of one of the most shocking miscarriages of justice in this country’s history. The word ‘travesty’ was invented for Imaan Mazari and Hadi Chattha’s case. https://t.co/RHlaDmZeAE
— Asad Rahim Khan (@AsadRahim) September 17, 2026
صحافی اور تجزیہ کار اسد علی طور نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت عظمیٰ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کردی ہیں اور انہیں ضمانت دے دی گئی ہے۔
🚨🚨#BREAKING: In a big development #SupremeCourt suspended convictions of #Pakistan’s most devoted human rights defender @ImaanZHazir and @AdvHadiali, bail granted.
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) September 17, 2026
سینئر صحافی مبشر زیدی نے بھی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جدوجہد کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کیا ہے۔
Travesty of justice is over for Imaan and Hadi. Hats off to their struggle to uphold human rights in Pakistan #SupremeCourt #IStandWithImaanAndHadi
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) September 17, 2026
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سپریم کورٹ نے کچھ دیر قبل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا حکم معطل کیا ہے۔ انہوں نے وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے کیس کے دلائل کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں وکلا 8 ماہ سے زائد عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوجائیں گے۔
Supreme Court has suspended the conviction order against @ImaanZHazir and @HadiAli115 a little while ago. Faisal Saddiqi Advocate brilliantly pleaded the case of Imaan and Hadi. Hope both the brave HR lawyers will come out of the prison after spending more than 8 months in jail.
— Afrasiab Khattak (@a_siab) September 17, 2026
وکیل جبران ناصر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ دونوں کو ایک ‘جعلی ٹرائل‘ کے نتیجے میں قید کا سامنا کرنا پڑا، ان کی بہادری اور عزم کو سلام پیش کرتا ہوں۔
Bail granted to @ImaanZHazir and @AdvHadiali by Supreme Court after 9 months of incarceration resulting from a sham trial. Salute to their bravery and resolve.
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) September 17, 2026
معاملے کا پس منظر
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ایف آئی آر میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور پاک فوج پر سنگین الزامات لگائے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور فوج کو بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے کالعدم گروہوں کے خلاف غیر مؤثر ظاہر کیا۔ مقدمہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج ہوا تھا۔
ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری 2026 کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا۔
