پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کر کے لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، وہ 9 مئی کے واقعات میں مختلف مقدمات میں ملوث اور2023 سے اشتہاری تھے۔
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد حماد اظہر طویل عرصے تک روپوش (منظرِ عام سے غائب) رہے۔ وہ جولائی 2025 میں اپنے والد میاں اظہر جو سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ (ق) کے بانیوں میں سے تھے، کے انتقال پر چند لمحوں کے لیے سامنے آئے تھے مگر دوبارہ روپوش ہو گئے۔
حماد اظہر کون ہیں؟
حماد اظہر عمران خان کے دور میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور تھے وہ وزیرِ صنعت و پیداوار بھی رہے۔
اپریل 2020 میں چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد جب اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار سے اُن کا قلمدان لے کر اُنہیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور بنا دیا گیا تھا، جبکہ حماد اظہر کو اقتصادی اُمور کی وزارت سے تبدیل کر کے وزیرِ صنعت و پیداوار بنا دیا گیا تھا۔
حماد اظہر اس سے قبل مالی سال 2020، اور 2021 کے لیے بجٹ بھی پیش کر چکے ہیں۔
وہ پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اور قائم مقام صدر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے تنظیمی اختلافات اور دباؤ کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔


