پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے اپنے کیبن کریو اور آن بورڈ اسٹاف کا 10 سال پرانا یونیفارم تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کا رسمی اعلان حال ہی میں نجکاری کے عمل سے گزرنے والی قومی ایئرلائن کی انتظامیہ نے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا۔ ایئرلائن کا انتظام عارف حبیب کنسورشیم کے ذیلی ادارے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ سنبھالی رہی ہے جسے 29 جون 2026 کو ملکیت منتقل کی گئی تھی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ روایات کے مطابق اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے اور پاکستان کے بہترین تخلیقی اذہان (ڈیزائنرز) کا تیار کردہ نیا یونیفارم جلد ہی منظرِ عام پر لایا جائے گا، جو پاکستان کی ثقافتی میراث اور جدت کے نئے امتزاج کی عکاسی کرے گا۔
View this post on Instagram
یاد رہے کہ نجکاری سے قبل وزارت نجکاری نے واضح کیا تھا کہ پرائیوٹ ہونے کے بعد بھی پی آئی اے اسی نام کے ساتھ کام کرے گی اور روٹس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جائیگی۔
پی آئی اے نے یہ نام 1955 میں اپنایا تھا جب قومی ایئرلائن کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 1946 میں بنی اوریئنٹ ایئرویز لمیٹڈ کو اس میں ضم کیا گیا تھا۔ تب سے 80 کی دہائی تک پی آئی اے نے نام تو نہیں بدلا لیکن کارکردگی اتنی بدلی کہ اس کا شمار دنیا کی صف اول کی فضائی کمپنیوں میں ہونے لگا۔ پھر اس کی تنزلی کا سفر شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔
قیام سے اب تک پی آئی اے کے عملے کا یونیفارم کئی بار تبدیل ہوا۔
ہسٹری آف پی آئی اے ویب سائٹ کے مطابق ابتدائی دور کا یونیفارم معروف پاکستانی ڈیزائنر لیلٰی شہزادہ اور پی آئی اے میں پانچ سال کے لیے بطور کیبن کریو ٹرینر تعینات ہونے والی فرانسیسی نژاد امریکی خاتون چاؤزی فاؤنٹینر نے مشترکہ طور پر تیار کی تھی۔
اس یونیفارم میں ایئرہوسٹس کے لیے سفید شلوار، سفید دوپٹہ، سفید کالر اور کفوں کیساتھ سبز رنگ کی قمیض، سیادہ جوتے، سیاہ ہینڈ بیگ، اور سبز رنگ کی قدرے شوخ ٹوپی شامل تھی۔

یہ یونیفارم 1956 سے 1960 تک رائج رہا۔
1966ء میں مشہور فرانسیسی فیشن ڈیزائنر پیئر کارڈن نے پی آئی اے کے لیے ایک تاریخی کیپ اور ٹوپی پر مشتمل یونیفارم ڈیزائن کیا، جس نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی تھی۔
1970ء اور 1980ء کی دہائی میں برطانیہ اور پاکستان کے ٹاپ ڈیزائنرز جن میں سر جیمز مورس اور عباسی بانو بھی شامل ہیں، نے اس میں جدت پیدا کی۔

پھر 1990ء کی دہائی میں شاہنواز اور بانو قریشی نے بھی ثقافتی رنگوں کو برقرار رکھتے ہوئے شلوار قمیض کا خوبصورت ڈیزائن شامل کیا۔
موجودہ یونیفارم تقریباً ایک دہائی قبل 2016ء میں پاکستان کے نامور فیشن ڈیزائنرز بشمول ثانیہ مسکتیا، نومی انصاریم اور طارق امین کے اشتراک سے تیار کیا گیا تھا جسے اب ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد بدلا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنی پرانی ساکھ بحال کرنے اور لوگوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے اپنے آپریشنز بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایئرلائن نے لندن کے لیے فضائی آپریشن میں توسیع کرتے ہوئے لندن کیلئے روزانہ 7 پروازیں چلانے کا اعلان کیا جس کے مطابق 27 اکتوبر سے 5 پروازیں اسلام آباد اور 2 لاہور سے آپریٹ ہوں گی۔
