لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو کیس میں ملزم کے وکیل سے دوران سماعت تلخ کلامی ہو گئی۔
لاہور کی مقامی عدالت میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عظمیٰ بخاری نے عدالت میں پیش ہو کر بطور شکایت کنندہ اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ روسٹرم پر گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میں ملزمہ نہیں، اس کیس میں شکایت کنندہ ہوں اور میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
اپنے خلاف ہونے والے ٹوئٹ پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے متعلق ٹوئٹ کیا، انہیں بتایا جائے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے۔ جس پر یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معافی بھی مانگ لی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے، ان کی فیک ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی اور وہ جس کرب سے گزری ہیں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست کی تھی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ خواتین کا بہت احترام ہے اور عدالت کے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایسے مقدمات سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ مقدمے میں تاخیر عدالت کی وجہ سے نہیں ہوئی، ایسوسی ایٹس آ کر تاریخ لیتے رہے۔
عدالتی حکم پر ملزمہ فلک جاوید کو پیش کیا گیا، جس کے بعد عظمیٰ بخاری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
عظمیٰ بخاری کا بیان مکمل ہونے پر ملزمہ کے وکیل علی اشفاق نے کہا کہ جرح کے لیے کم از کم چھ گھنٹے درکار ہوں گے۔ عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر اور وائرل کیے جانے کے معاملے پر فلک جاوید کے خلاف قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست کی تھی جسے گزشتہ سماعت میں عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔


