اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔
راولپنڈی میں انتظامیہ نے رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا۔
دونوں شہروں کی متعدد سڑکوں بشمول اسلام آباد ایکسپریس وے، مری روڈ، ترامڑی روڈ، اور ڈبل روڈ پر پانی جمع ہوگیا جبکہ آریہ محلہ، غوری ٹاؤن، اصغر مال سکیم، ڈھوک کالا خان، صادق آباد، وارث خان، اور ای الیون کی گلیاں بھی زیرآب آگئیں جس کے باعث پانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔
View this post on Instagram
اس کے ساتھ ساتھ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.90 فٹ تک بلند ہو گئی جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ڈیم کے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا۔
علاوہ ازیں، بارش اور پانی جمع ہونے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر رک گئی جبکہ کئی سڑکوں اور گلیوں میں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔
راولپنڈی ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ صفدر آباد میں 4 نمبر چونگی کے قریب نالہ لئی کا پانی باہر آگیا، جس سے متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا۔
کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دونوں مقامات پر آبادی کے انخلا کے لیے مقررہ حد 20 فٹ ہے۔
صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے آباد علاقوں، بالخصوص غریب آباد اور دیگر حساس علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب بارش سے نالہ کورنگ میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے، جبکہ آبپارہ مارکیٹ کے قریب درخت گرنے سے سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند ہوگیا۔
اسی طرح اسلام آباد کے ای الیون میں بھی نالہ بپھر جانے سے پانی سڑک اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ان بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔
زیرآب سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام
اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ کورال چوک سے کھنہ پل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ کئی مسافر گاڑیوں سے اتر کر پیدل اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بارش ہوئی کتنی؟
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد میں سب سے زیادہ 194 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی۔
جڑواں شہروں میں اب تک اوسطاً 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 157، سیدپور میں 98، چکلالہ میں 71 اور بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واسا نے نالہ لئی کے اطراف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضافی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ ہر بار موسلا دھار بارش ہونے پر جڑواں شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں جبکہ نالہ لئی اور کورنگ نالہ کے علاوہ دریائے سواں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو جاتی ہے جس کے باعث متعدد حادثات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
گزشتہ برس جولائی میں ایسی ہی بارش کے بعد ڈی ایچ اے فیز 5 کے رہائشی کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی اور ان کی بیٹی اپنی گاڑی سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ اس حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کئی دنوں تک وائرل رہی تھی جس کے بعد اس طرح کے حادثات کا سبب بننے والے نالوں اور دریاؤں کے بیڈ پر ناجائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن کی امید پیدا ہوئی تھی۔
اس سے قبل اسلام سنہ 2021 میں اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بارش کے بعد سیلاب آیا تھا جو نہ صرف گھروں میں داخل ہو گیا تھا بلکہ کئی گاڑیاں بھی بہا لے گیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ سی ڈی اے نے اس سیکٹر سے گزرنے والے برساتی نالے کی چوڑائی 40 سے 18 فٹ کرنے کی منظوری دی تھی جس کے باعث تیز بارش کے نتیجے میں پانی اس سے باہر نکل کر رہائشی علاقے میں داخل ہو گیا۔
