سرکاری میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے واشک پلانتک میں خفیہ آپریشن کرکے فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک کردئیے۔
پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا کہ “ہلاک دہشت گرد ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر دہشتگردانہ حملے میں ملوث تھے، کارروائی میں دہشت گردوں کی گاڑی تباہ ہوگئی، ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔”
سرکاری میڈیا کے مطابق برآمد شدہ اسلحہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا، بلوچستان سے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ردالفتنہ جاری.بلوچستان کےعلاقےواشک پلانتک میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،2دہشت گرد جہنم واصل.جہنم واصل دہشت گرد ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث… pic.twitter.com/QHFeZl8UMA
— PTV News (@PTVNewsOfficial) August 31, 2026
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے 31 جولائی کو جاری کیے گئے ماہانہ سکیورٹی جائزے کے مطابق گزشتہ ماہ بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد میں 241 فیصد اضافہ ہوا، جو جون میں 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 ہوگئی۔
بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں جو، جون میں 6 تھیں جولائی میں بڑھ کر 62 ہوگئیں، جو 933 فیصد اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکتیں 75 سے بڑھ کر 238 ہوگئیں جبکہ شہریوں کی ہلاکتوں میں 93 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 28 سے بڑھ کر 54 ہوگئی۔
صوبے میں امن کمیٹیوں کے 18 ارکان بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔


